پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی تصویر ٹویٹر پر وائرل

عمران خان کو اپنا ہیلی کاپٹر میانوالی میں ائیر بیس پر لینڈ کرنے پر تنقید کا سامنا ، ٹویٹر صارفین نے عمران خان کو دیگر سیاستدانوں جیسا قرار دے دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 14:51

پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی تصویر ٹویٹر پر وائرل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو انتخابات قریب آنے پر کئی مرتبہ سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کو ان کی حریف جماعتوں کے کارکنان اور حمایتی صارفین نے کئی مرتبہ ہدف تنقید بنایا۔ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے گھر کے باہر 300 ررینجرز اہلکار کی تعیناتی اور ان کا پروٹوکول بھی کسی سے ڈھکا چھُپا نہیں ہے جس پر انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حال ہی میں مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ن لیگ کی حمایتی ایک صارف نے عمران خان کی تصویر شئیر کی اور ساتھ ہی لکھا کہ عمران خان میانوالی میں اپنی انتخابی مہم کے لیے چارٹرڈ طیارے پر ایم ایم عالم میانوالی ائیر بیس پہنچے جہاں پی اے ایف ائیربیس کے کمانڈر نے عمران خان کا استقبال کیا۔

(جاری ہے)

جبکہ عمران خان کی تمام لینڈ کروزر گاڑیوں اور پروٹوکول کی گاڑیوں کو ائیر کرافٹ کے پاس ائیر بیس کے اندر ہی پارک کیا گیا۔

اپنے پیغام میں خاتون صارف نے کہا کہ نگران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ شرم کی بات ہے ۔
سمیعہ حسین نامی صارف کے اس ٹویٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ بالکل درست بات ہے ، عمران خان بھی ملک کے دوسرے سیاستدانوں کی طرح ہی ہیں۔
جبکہ ایک صارف نے سمیعہ حسین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ بڑی ہو جائیں، جب میانوالی میں کوئی ائیر پورٹ ہی نہیں ہے تو آپ عمران خان سے کیا اُمید کریں گی؟ کیا عمران خان کو اپنا طیارہ گھر کی چھت پر لینڈ کرنا چاہئیے تھا ؟
سمیعہ حسین کے دیکھتے ہی ایک اور صارف نے بھی عمران خان کی یہی تصویر اسی تحریر کے ساتھ پوسٹ کی جس سے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ قاسم علی بھٹی نامی یہ شخص مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم کا عہدیدار ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی ٹویٹر صارفین نے بھی یہی موقف اپنایا کہ جب کسی شہر میں ائیر پورٹ ہی موجود نہ ہوتو یا تو ہیلی پیڈ کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر اس شہر میں موجود ائیربیس پرطیارے کو لینڈ کیا جاتا ہے ، اور عمران خان نے بھی وہی کیا ، اس پر ان کو تنقید کا نشانہ بنانا محض ایک پراپیگنڈہ کا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر 300 کے قریب رینجرز اہلکار کی تعیناتی اور ان کی قومی خزانے سے ادائیگی پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

قومی اخبار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات کرنے کے احکامات پر عملدرآمد کی صورت میں اس سکیورٹی پر ماہانہ ایک کروڑ روپے خرچ آئے گا جس کی ادائیگی قومی خزانے سے کی جائے گی۔ پولیس ذارئع کے مطابق تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے سربراہ کی رہائش گاہ بنی گالہ پر وفاقی پولیس کی ایک ریزرو پہلے ہی مستقل طور پر تعینات رکھی گئی ہے جس میں دس پولیس اہلکار متعلقہ تھانہ بنی گالہ جبکہ باقی سکویرٹی ڈویژن پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔

ان تمام سکیورٹی اہلکاروں کو تین شفٹوں میں باری باری تبدیل بھی کیا جاتا ہے جب کے تمام تر اخراجات قومی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔ تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد نے عمران خان کی رہائش گاہ پر تین سو رینجرز اہلکاروں کی نفری سکیورٹی کے نقطہ نظر کے تحت تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جن پر مجموعی طور پر ماہانہ صرف ہر اہلکار کی بیس سے پچیس ہزار روپے کی ایک بنیادی اضافی تنخواہ ادا کرنے پر ساٹھ سے ستر لاکھ روپے ملک کے قومی خزانے سے ادا کیے جائیں گے اور اس طرح یومیہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے صرف رینجرز کے تین سو سکیورٹی اہلکاروں کو ادائیگی کی مد میں خرچ ہوں گے۔

اس کے علاوہ مذکورہ سکیورٹی سٹاف کو پاکستان رینجرز کی جانب سے ٹرانسپورٹ اور طعام کی فراہم کی جانے والی سہولت پر الگ سے لاکھوں روپے کے اخراجات ہوں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایسے میں ملکی تاریخ میں عمران خان وہ واحد سیاسی رہنما اور سیاسی جماعت کے سربراہ بن جائیں گے جنہیں بغیر کسی سرکاری عہدہ پر ہونے کے باوجود اتنے وسیع پیمانے پر سرکاری خرچ پر سکیورٹی فراہم ہو گی۔

اسی معلومات کی وجہ سے عمران خان کو ہدف تنقید بنایا گیا اور کہا گیا تھا کہ عمران خان تو حکومت میں آنے سے قبل ہی پروٹوکول لے رہے ہیں اور وہ بھی تب جب وہ خود اس پروٹوکول کے خلاف ہیں۔ عمران خان کے ایسا کرنے سے ان میں اور دیگر سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور عین ممکن ہے کہ عمران خان کے پروٹوکول اور شاہانہ طرز زندگی کی وجہ سے ان کا ووٹ بنک متاثر ہو جائے۔