سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کا 16ویں اجلاس کا انعقاد

منگل جون 16:23

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کا 16واں اجلاس سینڈیکیٹ کے چیئرمین اور سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کی زیر صدارت یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، جس میں سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی ملیر کیمپس کے ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملیر کیمپس کے پہلے مرحلے کے مکمل ہوجانے کے بعد جنوری2021ء میں وہاں تعلیمی عمل شروع کیا جائے گا اور جہاں پر سندھ کے ساتھ پاکستان کے دیگر صوبوں کے ذہین طالب علموں کو داخلا دیا جائے گا۔

ملیر کمپس کی تمام عمارات کا فن تعمیر سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی پرانی عمارات کی طرح ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجوزہ کیمپس میں لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ ہاسٹلس تعمیر کیے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک ہاسٹل میں دو سو طالب علموں کی رہائش کا بندوبست ہوگا۔

(جاری ہے)

ہاکس بے کیمپس کے پلاٹ کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس کی پی سی ون تیار کرکے گورنمنٹ کو منظوری کیلئے بھجوائی جائے۔

جبکہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی سٹی کیمپس کی توسیع کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس میں ایک آئی ٹی بلاک تعمیر کرنے کے ساتھ ایس ایم آئی یو ماڈل اسکول کی ایک اضافی عمارت تعمیر کی جائے گے۔ سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی سالانہ بجٹ برائے مالی سال 2018-19کیلئے چارسو تیئیس ملین روپے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے نیشنل لیڈرشپ اور انٹرنیشنل لیڈرشپ پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا گیا کی طالب علموں کیلئے اس طرح کی مزید سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔

اجلاس میں جسٹس رٹائرڈ آغا رفیق احمد خان، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے نمائندے رحیم بخش چنہ،یونیورسٹیز اینڈ بورڈس ڈپارٹمینٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری معین الدین صدیقی، ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد اقبال جمانی، سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی چنڑ اور دیگر سینڈیکیٹ کے ارکان نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :