ملکی خزانہ60دن کا رہ گیا

پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور سی پیک پر داؤ لگ گئے آئی ایم ایف قرضوں کے عوض کیا کرنیوالی ہے؟ تشویشناک خبر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 13:34

ملکی خزانہ60دن کا رہ گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ دو ماہ میں ملک کا خزانہ خالی ہونے والا ہے ۔ پروگرام میں شریک ماہر شماریات اور سینئیر تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ جب قومی خزانے کی بات کی جاتی ہے تو مجھے ٹائی ٹینک کا سب سے بڑا جہاز نظر آ جاتا ہے، اس وقت کپتان ٹائی ٹینک پر بیٹھے ہیں ان کو برف کا تودا بھی نظر آرہا ہے ، جہاز کی سمت برف کے تودے کی طرف ہے اور میرے اندازے کے مطابق آئندہ ساٹھ دنوں کے اندر اندر پاکستان کی معیشت کا یہ ٹائی ٹینک برف کے تودے سے ٹکرا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تین دن تک نگران حکومت نے آنا ہے ، ان کو نگران حکومت کہا جاتا ہے ،یہ تیاری کر رہے ہیں اس تودے سے بچنے کی تو آپ سمجھیں کہ اگلے تیس دن تو ضائع ہو جائیں گے۔

(جاری ہے)

اس کے بعد بچیں گے تیس دن اور ان تیس دنوں میں آپ نے اتنے بڑے جہاز کی سمت موڑنی ہے۔ میں ایمانداری سے بتاؤں تو اس وقت کوئی بھی اس جہاز کی سمت موڑنے کی کوشش نہیں کررہا۔ کوئی ذرہ بھر بھی کوشش نہیں کرہا ہے ملک کی معیشت کی سمت موڑی جائے اور اس جہاز کو برف کے تودے سے ٹکرانے سے اس کو بچا لیا جائے گا۔

کیونکہ اگر ملک کا خزانہ خالی ہو گا تو اس سال حکومت کا جو فنانسگ گیپ آئے گا وہ ایک اندازے کے مطابق ہمیں ایک سال کے لیے اضافی پچیس سے چھبیس ارب ڈالر اُدھار لینا پڑے گا تاکہ ہم اپنا ایک سال گُزار سکیں۔ ایسے میں ایک دو بلین چین دے دے گا اور کچھ مدد سعودی عرب بھی کر دے گا۔ لیکن بعد میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا پڑے گا۔اور آئی ایم ایف کے اندر امریکہ کے 8 لاکھ اور 31 ہزار ووٹ ہیں لہٰذا آئی ایم ایف کو اور امریکہ کو تقریباً ایک ہی سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف صرف ایک مالیاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ادارہ بھی ہے، اور آہستہ آہستہ آئی ایم ایف کی سیاسی شرائط بھی سامنے آئیں گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن ہے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں اور سی پیک پر سوال اُٹھا دیا جائے جس پر تجزیہ کار نے کہا کہ 2008ء میں جو ہم نے لندن کلب سے قرضہ جات لے رکھے تھے، آئی ایم ایف نے یہ شرط عائد کی تھی کہ اُس سارے قرضہ جات کے جو کھاتے ہیں وہ ہمارے سامنے کھول کر رکھے جائیں اور آئی ایم ایف کا جو قرضہ ہے وہ لندن کلب کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔

میرا خدشہ یہ ہے کہ اس بار جو شرط آئے گی وہ یہ ہو گی کہ سی پیک کے سارے قرضے اور سارے کھاتے کھول کر آئی ایم ایف کے سامنے رکھے جائیں اور یہ شرط دی جائے گی کہ آئی ایم ایف کا جو قرضہ ہے وہ آپ سی پیک کی شکل میں چین کو واپس نہیں کر سکیں گے۔ کوشش ہو گی کہ پاکستان کو چین کے اثر سے نکال کر واپس امریکہ اور آئی ایم ایف کے زیر اثر لے جایا جائے۔