ضابطہ اخلاق ''سخت '' ہونے کے سبب کراچی میں سیاسی مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی الیکشن سرگرمیاں ماند پڑ گئیں

کراچی کے کسی علاقے میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں کی تشہیری مہم کہیں نظر نہیں آ رہی،جماعتوں کا منشور پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا سیاسی جماعتوں کو جھنڈے اورامیدواروںتشہیری مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو پھر شہریوں کو کیسے معلوم ہو گا کہ کس حلقے میں کون سا امیدوار ہے،سیاسی رہنما

بدھ جولائی 16:55

ضابطہ اخلاق ''سخت '' ہونے کے سبب کراچی میں سیاسی مذہبی جماعتوں اور آزاد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کیلئے عوامی ، تشہیری اور انتخابی رابطہ مہم کا ضابطہ اخلاق ''سخت '' ہونے کے سبب کراچی میں سیاسی مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی الیکشن سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں ۔ کراچی کے کسی علاقے میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں کی تشہیری مہم محدود پیمانے پر نظر آ رہی ہے ۔

جس کی وجہ سے ان امیدواروں کو اپنی جماعتوں کا منشور پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عوامی رابطہ اور اشتہاری مہم کے لیے ضابطہ اخلاق سخت اور اس پر موثر عمل درآمد ہونے کی وجہ سے الیکشن 2018 کی انتخابی سرگرمیاں '' ٹھنڈی '' ہو گئی ہیں ۔

(جاری ہے)

ان رہنماں کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق میں نرمی کرے تاکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدوار وں کو انتخابی اور تشہیری مہم چلانے میں آسانی ہو سکے اور وہ موثر انداز میں عوام سے رابطے کر سکیں ۔

تفصیلات کے مطابق 2002 ، 2008 اور 2013 کراچی میں ہونے والے عام انتخابات کی الیکشن مہم کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان انتخابات کی الیکشن مہم کا انتخابی اور تشہیری ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کی جانب سے اتنا سخت نہیں تھا ۔ جو 2018 کے عام انتخابات کے لیے ہے ۔ عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہوں گے ۔ انتخابات کے آغاز میں تین ہفتوں سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے ۔

کراچی میں انتخابی سرگرمیاں مکمل طور پر ماند پڑی ہوئی ہیں ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں سیاسی مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی انتخابی اور اشتہاری مہم کہیں نظر نہیں آ رہی ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جھنڈے اور امیدواروں کی معلومات کے حوالے سے پوسٹرز ، بینرز اور اسٹیمرز وغیرہ نظر نہیں آ رہے ۔ جس کی وجہ سے اشتہاری مہم کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کام شدید متاثر ہوا ہے ۔

الیکشن کمیشن کے انتخابی اور تشہیری ضابطہ اخلاق سخت ہونے اور انتظامیہ کی جانب سے اس پر موثر عمل درآمد کرانے کے سبب کراچی میں انتخابات کی سرگرمیاں ٹھنڈی ہو گئی ہیں ۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم چلانے اور عوام سے رابطوں میں مشکلات درپیش ہیں ۔ شہر میں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اپنے امیدواروں کے حلقوں میں موثر انتخابی مہم اس اند از میں نہیں چلائی جا رہی ہے، جس طرح ماضی میں ہوا کرتی تھی ۔

شہر کی سڑکوںاور اہم مقامات پر تشہیری مہم کے تحت ہوڈنگز ، پینا فلیکس اور جھنڈے لگانے پر پابندی کے سبب کراچی میں عام انتخابات کا ماحول نظر نہیں آ رہا ہے ۔ اس حوالے سے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو شدید تحفظات ہیں ۔ پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ عام انتخابات کے لیے عوامی ، تشہیری اور انتخابی رابطہ مہم کا ضابطہ اخلاق اتنا سخت مرتب کیا ہے ، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے اور انتظامیہ اس پر مکمل عمل درآمد کرا ہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتوں کو جھنڈے اپنے امیدواروں کے کوائف سامنے لانے کے لیے تشہیری مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو پھر شہریوں کو کیسے معلوم ہو گا کہ کس حلقے میں کون سا امیدوار ہے اور کس جماعت کی حلقے میں پوزیشن واضح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پابندیو ں کی وجہ سے کراچی میں الیکشن کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو اپنے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان امین الحق کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو تو انتخابی چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ اور تشہیری مہم کا ضابطہ اخلاق سخت ہونے کی وجہ سے کراچی میں الیکشن کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ گئی ہیں ۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما وسیم آفتاب نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق سخت تو ہے لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا ہے کہ غریب آدمی اور جماعتوں کو الیکشن کے لیے رابطہ مہم چلانے میں آسانی ہو گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہی جماعت کامیاب ہو گی ، جو ووٹرز سے گھر گھر جا کر رابطے کرے گی ۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے مطابق الیکشن کا ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں وہی جماعت کامیاب ہو گی ، جو عوام سے رابطے میں ہو گی ۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور لیگی رہنما عبدالحمید بٹ نے نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق سے ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن نہیں سلیکشن ہو گا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہر میں صرف پی ٹی آئی کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے دیگر جماعتوں کو انتخابات لڑنے سے روکا جا رہا ہے ۔