نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل سے رہا

سینیٹر چوہدری تنویر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ضمانتی مچلکے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کرائے لیگی رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد اڈیالہ جیل پہنچی ،ْ نوازشریف کے حق میں نعرے بازی ،ْ سکیورٹی کے سخت انتظامات

بدھ ستمبر 22:23

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل سے رہا
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ،ْان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے معطل کیے جانے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کی ایوان فیلڈ ریفرنس میں سنائی گئیں سزائوں کو معطل کر نے اور رہائی کے حکم کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ضمانتی مچلکے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کرائے جس کے بعد روبکار جاری کیا گیا۔

دوسری جانب ہائی کورٹ سے رہائی کا حکم ملتے ہی، میاں شہباز شریف، جنید صفدر اور دیگر رہنماء اور لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی اڈیالہ جیل کے باہر پہنچی اور میاں نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی۔

(جاری ہے)

نواز شریف کی رہائی کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی، مرتضی عباسی، مئیر سردار نسیم خان سمیت پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی ۔

مسلم لیگ) ن (کے مرکزی رہنما سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے روبکار جاری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر طارق فضل ، بیرسٹر ظفراللہ ، چودھری تنویر اور میاں جاوید لطیف محمد نواز شریف کی رو بکار لیکر اسلام آباد ہائی کورٹ سے اڈیالہ جیل پہنچے جس کے بعد تینوں کو رہا کردیا گیا ،ْسابق وزیر اعظم نواز شریف نے جانے سے قبل جیل عملے سے ملاقات کی۔

اڈیالہ جیل کے حکام نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی اور داماد کو سخت سیکیورٹی میں جیل کے گیٹ نمبر ایک سے باہر نکالا گیا لیکن راولپنڈی اور خاص طور پر جیل کے باہر کارکنوں کی کثیر تعداد کہ وجہ سے روڈ مکمل بلاک ہونے کے باعث نواز شریف کی گاڑیوں کو کچھ دیر کے لیے جیل میں ہی روکا لیا گیا تھا۔اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کی صاحبزادی اور داماد کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ سزا معطلی کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں بتائی جائیں گی۔نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔