کوئٹہ کا11 سالہ بچہ روزانہ ایک کلومیٹر پیدل چل کر گھروالوں کے لیے پانی لاتا ہے

میرے ہاتھ پاؤں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے، میں رات آرام کرتا ہوں لیکن اگلے دن پھر پانی بھرنے کے لیے جانا ہوتا ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات ستمبر 13:15

کوئٹہ کا11 سالہ بچہ روزانہ ایک کلومیٹر پیدل چل کر گھروالوں کے لیے پانی ..
کوئٹہ (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20ستمبر 2018ء) کوئٹہ کا11 سالہ بچہ روزانہ ایک کلومیٹر پیدل چل کر گھروالوں کے لیے پانی لاتا ہے۔علی عباس کا کہنا ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے، میں رات آرام کرتا ہوں لیکن اگلے دن پھر پانی بھرنے کے لیے جانا ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پانی کی کمی بلوچستان کا سب سے بڑا اور تباہ کن مسئلہ ہے ۔کوئٹہ میں پانی کی بہت زیادہ قلت ہے۔

پانی کی قلت کے باعث ایک بچہ ایسا بھی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے پانی لانے کے لیے ایک کلومیٹر پیدل چلتا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عباس علی قلی برات کا رہائشی ہے۔گیارہ سال عباس علی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ گھر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے سے پانی لاتا ہے۔اسکول سے چھٹی کے بعد یہ اس کا روز کا معمول ہے۔

(جاری ہے)

عباس علی کا کہنا ہے کہ وہ دن میں دس سے زائد بار پانی بھرنے کے لیے جاتا ہے۔

ہماری موٹر خراب ہو چکی ہے اور بورسے پانی بھی نہیں آتا،اور میرا تعلق ایک غریب گھر سے ہے اس لیے مہنگے داموں ٹینکر نہیں منگوا سکتا،علی عباس کا کہنا ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔میں رات آرام کرتا ہوں لیکن اگلے دن پھر پانی بھرنے کے لیے جانا ہوتا ہے۔پانی کے ٹینکر کی قیمت ایک سے ڈھائی ہزار روپے ہے جو صرف صاحب حیثیت لوگ ہی منگوا سکتے ہیں۔

زیر زمین پانی کا مسئلہ اپنی جگہ لیکن انتظامی مسائل کی وجہ پانی کے فقدان کی بڑی وجہ ہے۔پاکستان میں پانی کی کمی کو دور کرنے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے آبی وسائل کیلئے بہتر منصوبہ بندی ترجیحی بنیادوں پر کرنی چاہیے ۔سابق وزیر بلوچستان کا کہنا تھا کہ بارشوں میں کمی اور آبی ذخائر کی عدم دستیابی کے باعث کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں پانی کی شدید قلت ہے، حکومت پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہے۔