افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے تشدد کا خاتمہ لازم ہے‘ڈاکٹرملیحہ لودھی

افغان مسئلے کاحل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں‘ہمسائے ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی کی حمایت کرتے ہیں‘طویل امریکی جنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں‘کامیابی کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں‘کسی ملک کو کابل میں قیامِ امن سے اتنا فائدہ نہیں پہنچے گا جتنا اسلام آباد کو پہنچے گا۔اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا 15رکنی سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب

جمعرات ستمبر 14:50

نیویارک\اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2018ء) پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے تمام فریقین سے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے فضا سازگار کرنے کی غرض سے تشدد کے خاتمے کی کوشش کریں اور اس بات پر زور دیا کہ افغان مسئلے کاحل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔اقوامِ متحدہ(یو این) سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کئی برسوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن صرف اس صورت ممکن ہے جب تمام افراد سیاسی سطح پر ہونیوالے مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔

اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی کی حمایت کرتا ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے غیر ملکی دورے پر کابل گئے ،جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو افغانستان اور خطے میں امن کیلئے لازمی جز قرار دیا گیا۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں طویل امریکی جنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئیمذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہی وہ اقدام ہے جس کا پاکستان،عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔15 رکنی کونسل اجلاس ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان پائیدار امن کیلئے مذاکراتی عمل کی تمام کوششوں کی نہ صرف حمایت کرے گا بلکہ اس میں تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے علاوہ کسی اور ملک نے 4 دہائی تک جنگ، عالمی مداخلت اور غیر معمولی افراتفری کا سامنا نہیں کیا، اور کسی ملک کو افغانستان میں قیامِ امن سے اتنا فائدہ نہیں پہنچے گا جتنا پاکستان کو پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک افغان شورش سے براہِ راست متاثر ہونے والے تمام فریقین لچک کا مظاہرہ نہ کریں اس وقت تک سنجیدہ مذاکراتی عمل کوششوں کو ملتوی کیا جاسکتا ہے۔افغان جنگ کا سیاسی حل نکالنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے موقع پر ہونے والی جنگ بندی سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اگر متعلقہ فریقین چاہیں تو افغانستان میں مکمل طور پر امن قائم ہوسکتا ہے۔