ڈیموںکے مخالف نہیں لیکن کالا باغ ڈیم مختلف چیز ہے ،کوئی آرٹیکل 6 لگاتا ہے تو لگالے ہم نے کالا باغ کی مخالفت کرنی ہے ‘ اسفند یار ولی

عمران خان الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں ، جو زبان رکھتے ہیں انہیں اسمبلی نہیں آنے دیا گیا ،جوبے زبان تھے انہیں اسمبلی لے آئے سب دعا کریں سول ملٹری تنائو ختم ہو ،صرف انتقال اقتدار نہیں بلکہ انتقال اختیار بھی ہو ‘ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو

ہفتہ ستمبر 19:20

ڈیموںکے مخالف نہیں لیکن کالا باغ ڈیم مختلف چیز ہے ،کوئی آرٹیکل 6 لگاتا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ ہم ڈیموںکے مخالف نہیں لیکن کالا باغ ڈیم مختلف چیز ہے ،کوئی آرٹیکل 6 لگاتا ہے تو لگالے ہم نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنی ہے ، عمران خان الیکٹڈ وزیر اعظم نہیں انہیں سلیکٹڈ وزیر اعظم سمجھتا ہوں ، جو زبان رکھتے ہیں انہیں اسمبلی نہیں آنے دیا گیا اور جو بے زبان تھے انہیں اسمبلی لے آئے ،سب مشترکہ دعا کریں کہ سول ملٹری تنائو ختم ہو اور صرف انتقال اقتدار نہیںبلکہ انتقال اختیار بھی ہو ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنی جماعت کے وفد کے ہمراہ جاتی امراء رائے ونڈ میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ان کی اہلیہ کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت او ر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اسفند یار ولی نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کے جنازے کے وقت ملک سے باہر تھا اس لئے شریک نہ ہو سکا ۔ ملک میں چند ہی خواتین ایسی ہیں جنہوںنے آمریت کے خلاف لڑائی لڑی اور اس جدوجہد میں بینظیر بھٹو اور بیگم کلثوم نواز کا ایک مقام ہے ۔

اس وقت جب بڑے بڑے نام جھک گئے بیگم کلثوم نواز نے مشرف کا مقابلہ کیا اور ڈٹ کر کھڑی رہیں ۔ صرف مجھے ہی نہیں پورے پاکستان کو ان کے کردار پرفخر ہے ۔ انہوں نے ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت پر آرٹیکل 6کے اطلاق کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں ایک بات بالکل واضح کر دوں کہ ڈیم مختلف مختلف چیز ہے اور کالا باغ مختلف ہے ۔ ہم ڈیموں کے مخالف نہیں لیکن کوئی کالا باغ ڈیم کے معاملے پر آرٹیکل 6لگاتا ہے تو لگا لے ہم نے اس کی مخالفت کرنی ہے ۔

انہوںنے سول ملٹری تعلقات میں تنائو کے سوال کے جواب میں کہا کہ اللہ کرے یہ ختم ہو جائے اور سب مشترکہ دعا کریں کہ یہاں صرف انتقال اقتدار نہ ہو بلکہ انتقال اختیار بھی ہو ۔ انہوںنے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اختیارات نہ ہونے کے سوال پر کہا اس بارے ان سے پوچھیں ،اگر ان کے پاس اختیارات نہیں تھے وہ صرف نام کیلئے وزیر اعظم کیوں بنے ۔

اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو کبھی بھی یہ عہدہ نہ لیتا ۔ انہوںنے موجودہ حکومت کے ملٹری سے تعلقات بارے سوال کے جواب میں کہاکہ یہ آپ عمران خان سے پوچھیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ لیکن شائستگی اپنی جگہ ہے ۔ جب سے کپتان سیاست میں آئے ہیں سیاست سے شائستگی ختم ہو گئی ہے ، سیاست میں ذاتیات پراتر آناٹھیک بات نہیں ، اگر آپ نے مجھ سے عزت لینی ہے تو مجھے عزت دینی بھی ہو گی ۔

انہوںنے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جو لوگ مشرقی سرحد پار کر کے آئے ان کو آپ نے شہریت بھی دی اور حکمرانی کا حق بھی دیا لیکن وہ لوگ جن کے باپ داد نے قربانیاں دیں امریکہ کی جنگ کی خوارک بنے ان کی تیسری نسل کیوں شناخت سے محروم ہے ،افغانیوں کو شہریت دینا ہمارا مطالبہ تھا۔ مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ جو بچہ وہاں پیدا ہو اسے شناخت نہ دی جائے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ مضبوط جمہوریت کیلئے مسلم لیگ (ن)اور نواز شریف کا ہونا ضروری ہے ،اگر میاں صاحب کا سیاست میں کردار نہ ہوا تو پاکستان کی بدقسمتی ہو گی ۔