وزیر خارجہ کو سنجیدگی سے معاملات کو دیکھنا ہوگا ،سعید غنی

ائیر پورٹ پر فوٹو سیشن کی بجائے پاک بھارت صورتحال سمیت دیگر مسائل پر کام کرنا چاہیے،کے ڈی اے میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لئے انکوائری کائونٹرز کو فوری طور پر فعال کیا جائے، اجلاس سے خطا ب

بدھ ستمبر 17:15

وزیر خارجہ کو سنجیدگی سے معاملات کو دیکھنا ہوگا ،سعید غنی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی ای) میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لئے شکایتی اور انکوائری کائونٹرز کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ موبائل اپلیکیشن کے ذریعے عوام کو گھر بیٹھے ان کے مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ ادارے کو فعال اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریوںکو بھرپور انداز میں پورا کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی صبح سیکرٹری بلدیات کے دفتر میں کے ڈی اے کے گذشتہ اجلاس کے فالواپ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی، سیکرٹری فضیل بخاری، رام چند، نوید اظہار، عطا عباس، محمد قاسم، کمال احمد، لیاقت علی سمیت کے ڈی اے کے دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کی گورننگ باڈی کی تشکیل اور اس کے اجلاس کے حوالے سے سیکرٹری بلدیات اور ڈی جی کے ڈی اے کو ہدایات دیں۔

اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ اداروں میں عوامی مشکلات اور عوام کی رہنمائی کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے اور عوام کی ان شکایات کے ازالے کے لئے متعلقہ افسران تک رسائی نہ ہونے کے سبب جہاںدیگر مسائل جنم لے رہے ہیں وہاں اداروں کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات کے زیر انتظام تمام اداروں میں معلوماتی اور شکایاتی کائونٹرز ہی اس کا واحد حل ہے۔

انہوں نے ڈی جی کے ڈی اے کو ہدایات دی کہ سوک سینٹر میں قائم کے ڈی اے کے مرکزی دفتر میں شکایاتی اور معلوماتی کائونٹرز فوری طور پر قائم کئے جائیں اور یہاں آنے والی شکایات کے فوری ازالے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید طور کے پیش نظر موبائل پر ایک ایسی اپلیکیشن بنائی جائے جس سے کے ڈی اے کے حوالے سے عوام کو جس قسم کی بھی آگاہی درکار ہو وہ انہیں گھر بیٹھے دستیاب ہو اور ان کی شکایات بھی اس اپلیکیشن کے ذریعے متعلقہ افسران تک پہنچ جائے۔

سعید غنی نے سیکرٹری بلدیات سندھ کو ہدایات دی کہ وہ اس سلسلے میں مکمل مانیٹرنگ کریں اور ان شکایاتی اور معلومات کے لئے بننے والے کائونٹرز کی بھی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کے لئے بھی اقدامات کریں۔ اس موقع پر کے ڈی اے کے ڈی جی سمیع صدیقی نے صوبائی وزیر کو گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ملنے والی ہدایات پر کی جانے والی کارروائیوں اور اقدامات سے انہیں آگاہ کیا اور بتایا کہ افسران اور ملازمین کے حوالے سے تمام تر تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں جبکہ ان افسران اور ملازمین کی روزانہ اور بروقت حاضری کو یقینی بنانے کے لئے جلد ہی بائیو میٹرک سسٹم کے لئے بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

انہوں نے صوبائی وزیر سے استدعا کی کہ کے ڈی اے کی گورننگ باڈی کے اجلاس کے لئے اس میں دو ارکان سندھ اسمبلی، محکمہ خزانہ اور محکمہ ایڈمنسٹریشن کے ایک ایک افسر کی تعیناتی کے لئے وہ ہدایات دیں تاکہ گورننگ باڈی میں ان ممبران کی تعداد کو مکمل کرنے کے بعد اجلاس طلب کیا جاسکے اور کے ڈی اے کے حوالے سے درکار فیصلے کئے جاسکیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو دو ارکان سندھ اسمبلی کی تقرری کے لئے خط لکھ دیا ہے جبکہ دو ممبران افسران کی بھی آئندہ چند روز میں تعیناتی کردی جائے گی۔

سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر خارجہ کو سنجیدگی سے معاملات کو دیکھنا ہوگا اور ائیر پورٹ پر فوٹو سیشن کی بجائے پاک بھارت صورتحال سمیت دیگر مسائل پر کام کرنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین بات چیت کا عمل ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کسی بھی بات کا کوئی علاج نہیں ہے۔ تھرمیں اس سال بھی سندھ حکومت کی جانب سے وہاں کے لوگوں میں مفت گندم کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور کوشش ہے کہ تمام لوگوں کو یہ گندم فراہم کی جاسکے۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور بچوں کے اغواء پر وزیر اعلیٰ سندھ اور ہماری پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں پولیس اور دیگر امن و امان کی بحالی کے اداروں کی جانب سے مثبت اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔ پاکستان ایشیاء کپ کا فائنل جیتے یہ ہماری خواہش ہے اور انشاء اللہ ہمیں امید ہے کہ وہ اس قوم کو ایشاء کپ کا تحفہ دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سمدھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملک کی خارجہ پالیسی نہ ہونے کے سبب صورتحال تشویشناک ہے اور ہمارے وزیر خارجہ سنجیدگی کی بجائے ائیر پورٹ پر لائن میں کھڑے رہنے کا فوٹو سیشن کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی بات کا حل نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت سمیت تمام ممالک سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور بالخصوص بھارت سے تمام مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت کو میڈیا اور اپوزیشن جس انداز میں پیش کررہی ہے ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچہ کی ہلاکت بھی نہیں ہونی چاہئے لیکن اگر اعداد و شمار کا ملک کی سطح پر جائزہ لیا جائے تو تھر سے زیادہ بچوںکی ہلاکت دیگر شہروں اور صوبوں میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں کمزور خواتین اور اس کے باعث بچوں کی ولادت کے وقت اس کا کمزور ہونا اور دور دراز آبادیوں میں چھوٹے چھوٹے گائوں کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں گذشتہ 10 برس کے دوران پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے جو جو اقدامات کئے ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن ابھی بھی وہاں پر مزید ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے اور انشاء اللہ پیپلز پارٹی تھرپارکر کے اپنے بھائیوں کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں بچوں کے اغواء اور اسٹریٹ کرائم پر پیپلز پارٹی کی قیادت اور وزیر اعلیٰ سندھ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر امن و امان کی بحالی کے اداروں نے کام کا آغاز کردیا ہے اور انشاء اللہ اس میں کامیابیاں مل رہی ہیں۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس ملک کے عوام کو ایشیاء کپ کا تحفہ پیش کرے گی البتہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کپ میں افغانستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں نے جو کارکردگی دکھائی ہے اس سے ان ٹیموں کو کمزور ٹیموں کے روپ میں تصور کرنے کی نفی ہوگئی ہے۔ #