ضمنی انتخابات کے نتائج حکومت کی اکثریت کو متاثر نہیں کر سکیں گے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ اکتوبر 00:18

ضمنی انتخابات کے نتائج حکومت کی اکثریت کو متاثر نہیں کر سکیں گے
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-11 اکتوبر 2018ء) :ضمنی انتخابات کسی حکومتی اکثریت پر اثرانداز نہیں ہوں گے ،تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومتی اتحاد سے بغاوت ضمنی انتخابات کے نتائج کو موثر بنا سکتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کے انتخابی نتائج کے بعد 12 اراکینِ قومی اسمبلی کی طرف سے خالی کی گئی نشستوں میں سے 11 نشستوں پر ضمنی انتخابات 14 اکتوبر کو ہونے جارہے ہیں جبکہ نومنتخب صدر عارف علوی کی جانب سے چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب 21 اکتوبر کو ہوگا۔

25 جولائی 2018 کو انعقاد پذیر ہونے والے انتخابات میں 11 نشستوں پر 6 حلقوں پر پاکستان تحریک انصاف جیتی تھی اور اس کے بعد انکو چھوڑ دیا گیا تھا۔دوسری جانب 2 سیٹوں پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار پرویز الہٰی کامیاب ہوئے تھے تاہم انہوں نے صوبائی نشست کو رکھا اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں کو شھوڑ دیا تھا اور ایک نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے بھی صوبائی نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

جبکہ قومی اسمبلی کے 2 حلقوں این اے 60 اور 103 پر انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔این اے 60 وہی حلقہ ہے جہاں سے حنیف عباسی نے الیکشن لڑنا تھا تاہم انکی نااہلی اور گرفتاری کے بعد الیکشن ملتوی ہوا تھا۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی 11 نشستوں کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 26 خالی نشستوں پر بھی 14 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے۔ جن میں پنجاب کی 13، سندھ کی 4 اور خیبر پختونخوا کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

ان ضمنی انتخابات کے نتائج کسی بھی جماعت کے حق یا مخالف نہیں جا سکتے ۔ان انتخابات کے نتائج قومی اسمبلی سمیت کسی بھی صوبائی اسمبلی میں موجود اکثریت پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ تاہم قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے اگر کوئی جماعت حکومتی اتحاد سے بغاوت کرلے تو ان ضمنی انتخابات کے نتائج آنے والے دنوں میں حکومت کے خلاف جا سکتے ہیں۔