میں ایوان میں نہیں تھا پھر بھی اس روز سینیٹر صاحب نے میرے بارے میں بات کی،

اس گفتگو پر سینیٹر یا ان کی جماعت معذرت کرے، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے بارے میں بات کرنے سے ایوان کا ماحول کیسے خراب ہو جاتا ہے، جب بھی ہم اس بارے میں بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ایوان کا ماحول خراب نہ کیا جائے، کیا ایوان چلانا صرف حکومت کی ذمہ داری ہے یا اپوزیشن کی بھی کوئی ذمہ داری ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال

بدھ نومبر 19:44

میں ایوان میں نہیں تھا پھر بھی اس روز سینیٹر صاحب نے میرے بارے میں بات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ میں ایوان میں نہیں تھا پھر بھی اس روز سینیٹر صاحب نے میرے بارے میں بات کی، اس گفتگو پر سینیٹر یا ان کی جماعت معذرت کرے، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے بارے میں بات کرنے سے ایوان کا ماحول کیسے خراب ہو جاتا ہے، جب بھی ہم اس بارے میں بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ایوان کا ماحول خراب نہ کیا جائے، کیا ایوان چلانا صرف حکومت کی ذمہ داری ہے یا اپوزیشن کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔

بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے چیئرمین سے کہا کہ وہ بات کرنا چاہتے ہیں، انہیں موقع دیا جائے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں ایوان میں نہیں تھا پھر بھی اس روز سینیٹر صاحب نے میرے بارے میں بات کی، ایوان چلانا صرف حکومت نہیں اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے، قائد حزب اختلاف سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس ایوان کو چلانا صرف حکومت کی ذمہ داری ہے ، آپ (چیئرمین سینیٹ) ہمیں تو روکتے ہیں، جو گفتگو کی گئی وہ نامناسب تھی، اس پر وہ سینیٹر یا ان کی جماعت معذرت کرے۔

(جاری ہے)

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ان معاملات کو لپیٹنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں کبھی ذاتی بات نہیں کرتا، چیئرمین سینٹ نے ان سے معذرت کا نہیں کہا، معاملہ تب شروع ہوتا ہے جب ہم یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ حکومت میں معاملات کس طرح چلائے گئے، بابا فرید گنج شکر کی زمین بیچ کر کھا گئے، سپریم کورٹ میں یہ بات ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر بات نہ کریں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب بھی ہم کہتے ہیں کہ کرپشن نہیں ہونی چاہیے، منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے تو ماحول خراب ہوتا ہے، یہ نہ کہا جائے کہ تمام چیزوںکو قالین کے نیچے ڈال دیا جائے، جو پانچ ہزار اکائونٹس ٹریس ہوئے ہیں پتہ چلنا چاہیے وہ کن کے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس پر جے آئی ٹی بنی ہوئی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ تو کیا ایوان میں اس پر بات نہیں ہونی چاہیے۔