آئی ایم ایف کے وفد کا نیپرا ہیڈکواٹرزکا دورہ

پاور سیکٹر کی کارکردگی پر بریفنگ‘بجلی کی جنریشن، ٹرانسمیشن اورڈسٹری بیوشن کے شعبوں کی کارکردگی کے متعلق آگاہ کیا گیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات نومبر 13:24

آئی ایم ایف کے وفد کا نیپرا ہیڈکواٹرزکا دورہ
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2018ء) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈز ( آئی ایم ایف) کے درمیان قرضے کے لیے شرائط پر مذاکرات کے سلسلے میں آئی ایم ایف کے وفد نے اسلا م آباد میں نیپرا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ہے. آئی ایم ایف کے وفد نے ہیرالڈ فنگر کی سربراہی میں چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی سے ملاقات کی، اس موقع پر آئی ایم ایف کے وفد کو پاور سیکٹر کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی.

ملاقات میں نیپرا کے مختلف شعبوں کے سربراہان بھی موجود تھے، وفد کو نیپرا حکام کی جانب سے بجلی کی جنریشن، ٹرانسمیشن اورڈسٹری بیوشن کے شعبوں کی کارکردگی کے متعلق آگاہ کیا گیا.

(جاری ہے)

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کے نرخ کے تعین میں اپنے اختیارات ترک کردے. آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے متعین کردہ بجلی کے نرخ پر اپنے اختارات کا استعمال بند کردے جو گردیشی قرضوں سے متعلق اہم آلہ کار ہے.

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گردیشی قرضوں کا مسئلہ کمپنیوں کی جانب سے دائر پٹیشن کے باعث بجلی کے نرخ کے تعین میں دیر کرنے کی وجہ سے آتا رہا ہے، جس کے بعد مزید دیری حکومت اور ریگولیٹر کے درمیان نوٹیفکیشن لینے اور دینے کے معاملے سے ہوتی ہے. ذرائع کا کہناہے کہ آئی ایم ایف حکام نے نیپرا ایکٹ میں مزید ترامیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ سہہ ماہی، سالانہ یا اس سے زائد عرصے کے لیے نرخ کے تعین کے لیے نوٹیفکیشن کو یقینی بنایا جائے، جس طرح تیل کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے.

وفد کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیس ٹیرف میں ترمیم سے متعلق بات چیت جاری ہے تاکہ اس بات کو یقین بنایا جائے کہ ریگولیٹر ٹیرف پٹیشن وصول کرے اور پہلے سے موجود فارمولا اور پرفارمنس کے تحت نرخ کا تعین کرے اور پھر کم سے کم ممکنہ وقت میں اس حوالے سے مطلع کرے. ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ سے بات چیت کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد نے مذکورہ مسئلے پر پاور ڈویژن سے علیحدہ 3 مرتبہ سیشن رکھا.

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 6 نومبر کو اسلام آباد پہنچا اور 7 سے 9 نومبر تک پاکستان اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے اس دوران معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا. آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات 20 نومبر تک ہوں گے،اس دوران بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری لانے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈزسے 6 ارب ڈالر تک کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے. اس سے قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ پاکستان 19واں اور آخری آئی ایم ایف پروگرام لینے جا رہا ہے، کچھ دنوں میں صورت حال واضح ہوجائے گی، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے میں تاخیر کا تاثر غلط ہے.