مولانا سمیع الحق قتل کیس؛ انویسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش میں اہم پیش رفت

پولیس نے سات افراد کو حراست میں لیکر ڈی این اے کے نمونے بھجوادیئے کمرے کے باتھ روم سے ملنے والا خون کے دھبوں والا کرتا مولانا کا نہیں، کمرے سے چاقوقبضے میں لیا گیا تھا جس کی فورنزک رپورٹ کا انتظارہے ،ْذرائع

جمعرات نومبر 17:17

مولانا سمیع الحق قتل کیس؛ انویسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش میں اہم پیش رفت
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) مولانا سمیع الحق قتل کیس میں ان کے کمرے سے ملنے والے شواہد کے تجزیے میں 5 افراد کے ڈی این ایزکی موجودگی کا انکشاف کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے اٰئی۔ ٹیم کی جانب سے کمرے سے ملنے والے شواہد کے تجزیے میں پانچ افراد کے ڈی این ایز کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا ہے جس کے بعد پولیس نے سات افراد کو تحویل میں لے کرڈی این اے کے نمونے بھجوا دیئے۔

(جاری ہے)

اس متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ نمونے کراس میچ کے لئے پنجاب فورنزک سائنس ایجنسی کو بھجوائے گئے، ساتوں افراد کے ڈی این ایزکو کمرے سے ملنے پانچوں ڈی این ایزسے کراس میچ کرایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کمرے کے باتھ روم سے ملنے والا خون کے دھبوں والا کرتا مولانا کا نہیں، کمرے سے چاقوقبضے میں لیا گیا تھا جس کی فورنزک رپورٹ کا انتظارہے۔دوسری جانب مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری احمد شاہ افغان نژاد اوربچپن سے پاکستان میں مقیم ہیں، راولپنڈی پولیس نے احمد شاہ کو شامل تفتیش کرنے کے لئے نوشہرہ و اکوڑہ خٹک پولیس سے رجوع کرلیا، احمد شاہ کی طلبی کے نوٹس کورئیرکے ذریعے اکوڑہ خٹک ارسال کئے گئے۔