مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کوپابندیوں اور حملوں کا سامنا ہے، ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘

جمعہ نومبر 15:50

نیویارک۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) نیویارک میں قائم صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جی) نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو رواں برس 8اکتوبر سے 30اکتوبر تک بڑے پیمانے پر پابندیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سی پی جے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں برس آٹھ اکتوبر کو بھارتی فورسز نے صحافیوںکو ضلع کپواڑہ میں میونسپل انتخابات کی کوریج سے روک دیااور فورسز اہلکاروں نے صحافیوں کو واضح طور پر بتایا کہ انتظامیہ نے انہیں سختی سے اس بات کی ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا والوںکو انتخابات کی کوریج نہ کرنے دیں۔

سی جے پی کے بیان میں کہا گیا کہ سرینگر کے کئی پولنگ سٹیشنوں پر بھی صحافیوں کو کوریج سے روک دیا گیاجب کہ ان کے پاس مقبوضہ علاقے کے الیکشن کمیشن کے اجازت نامے بھی تھے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں نے دو بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں سے وابستہ صحافیوں فیاض لولو اور دین عمران کو اسلام آباد قصبے میں انتخابات کی کوریج کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔

سی پی جے نے کہا کہ بھارتی پولیس نے 17اکتوبر کو سرینگر میں ایک فوجی آپریشن کی کوریج کرنے پر چھ صحافیوںکو مارا پیٹا ، 19اکتوبر کو پولیس نے تین صحافیوں ثاقب مغلو، قیصر اندرابی اور برہان بٹ کو سرینگر میں ان کے دفتر کے باہر مارپیٹ کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرلیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں برس 30اکتوبرکو بھارتی فورسز اہلکاروں نے زی نیوز کے ساتھ وابستہ صحافی اعجاز احمد ڈار کو ضلع شوپیاں میں اس وقت پیلٹ مار دیئے جب وہ ایک مظاہرے کی کوریج کررہے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی پولیس نے رواں برس 11اکتوبر کوصحافیوںکو پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر منان وانی کی ضلع کپواڑہ میں نماز جنازہ کی کوریج سے بھی روک دیا اور تین گھنٹوں بعد کچھ صحافیوں کو آگے جانے کی اجازت دی۔