مسلم لیگ (ن) کا شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنائے جانے کی صورت میں ایوان بالا کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے پر غور

بدھ دسمبر 12:59

مسلم لیگ (ن) کا شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنائے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2018ء) مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنائے جانے کی صورت میں ایوان بالا کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین کسی صورت نہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے احتجاجی حکمت عملی کے طور پر ایوان بالا کی قائمہ کمیٹیوں اور چیئرپرسن شپ سے بھی مستعفی ہونے پر غور شروع کردیا ہے۔

حکومت کا اس حوالے سے یہ مؤقف ہے کہ چونکہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ پانچ سالوں کے دوران برسراقتدار جماعت رہی ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آڈٹ اعتراضات کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کو اصولی طور پر نہیں سونپی جا سکتی۔

(جاری ہے)

سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک بھی حکومت کے اس استدلال میں جان موجود ہے اور دوسری طرف آئین کے تحت قائد حزب اختلاف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانا لازم نہیں ہے تاہم گزشتہ 2 ادوار حکومت میں قائد حزب اختلاف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کی روایت ڈالی گئی۔

اس روایت کا آغاز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت کی متفقہ دستاویز کے بعد ہوا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے علاوہ دیگر بزنس کاتمام تر دارومدار قائمہ کمیٹیوں پر ہے۔ نئی قومی اسمبلی کی طرف سے 3 ماہ گزرنے کے باوجود قانون سازی کے حوالے سے اب تک کوئی کردار ادا نہ کر سکنے کی ایک وجہ قائمہ کمیٹیوں کی عدم موجودگی بھی ہے۔ جب تک پبلک اکائونٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیاں قائم نہیں کی جاتی پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود رہے گا۔