وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں جنگ کے مسئلے کو ہمیشہ سیاسی طور پر حل کرنے کی حمایت کی ہے،

اس موقف کو اپنانے پر عالمی برادری کے شکر گزار ہیں، افغانستان میں امن افغان عوام کے مصائب کے خاتمہ اور پورے خطے میں امن و استحکام کے لئے بہترین موقع فراہم کرتا ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال

جمعہ دسمبر 13:22

وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں جنگ کے مسئلے کو ہمیشہ سیاسی طور ..
اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) پاکستان نے افغان امن عمل کے لئے سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو یاددہانی کرائی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کے لئے ہمیشہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی حمایت کی ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور افغان حکومت کی ایسے حل پر آمادگی مثبت سمت میں پیش رفت ہے۔

امریکا کی طرف سے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات بھی ایک اور مثبت پیش رفت ہے اور پاکستان ایسے مذاکرات میں بھرپور معاونت کرے گا۔

(جاری ہے)

پاکستانی مندوب نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان تقریباً دو عشروں سے بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی جنگ کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔اب اس موقف کو پوری عالمی برادری کی طرف سے اپنا لیا گیا ہے جس پر ہم عالمی برادری کے شکر گزار ہیں۔

پاکستانی مندوب نے افغانستان میں امن کے فروغ کے لئے روس، چین اور خطے کے دیگر ممالک کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کہ پائیدار امن کے لئے ضروری ہے کہ تمام علاقائی شراکت داروں کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغان عوام جنگ کا خاتمہ اور امن چاہتے ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی اسی خواہش کو ان کے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد بنائے۔

یہ تمام متعلقہ فریقوں کے ذمہ داری اور ان کے لئے ایک چیلنج ہے اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ اپنے حصے کا کردار بھرپور انداز میں ادا کرے ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ تمام مصائب و آلام جو افغان عوام نے اپنے ملک میں طویل جنگ کے دوران برداشت کئے افغانستان کے قومی اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے کئے ایک خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے افغانستان کے حوالے سے مختلف رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصہ کے دوران افغانستان میں پرتششد کارروائیوں اور ان کے نتیجہ میں جانی و مالی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں طویل عرصہ سے جاری جنگ سے پاکستان دیگر ممالک کے مقابلہ میں کہیں زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی اور کئی عشروں سے ان کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان میں بیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین موجود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان پاکستان ایکشن پلان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانا ہے اور اس کے تحت افغانستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لئے مالی امداد دی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سائوتھ سائوتھ کواپریشن کے فروغ کے لئے بھی پرعزم ہے۔ افغانستان میں امن کا قیام مشکل ضرور ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ۔یہ افغان عوام کے مصائب کے خاتمہ اور ان کے ملک اور پورے خطے میں امن و استحکام کے لئے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔