ڈومور نہیں ،اب وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا: عمران خان

جمعہ دسمبر 16:26

ڈومور نہیں ،اب وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا: عمران خان
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں، اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا۔ امر یکہ کے ساتھ برابر ی کی سطح پر تعلقات چا ہتے ہیں ، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے، امر یکہ افغا نستا ن سے نکلنے میں جلد با زی نہ کر ے ،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تاہم اب پاکستان امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکا سے ایسے تعلقات کبھی نہیں چاہیں گے جس میں پیسے دے کر جنگ لڑنے یا پاکستان کے ساتھ خریدی گئی بندوق جیسا برتاؤ کیا جائے، ہم خود کو دوبارہ اس پوزیشن میں نہیں ڈالیں گے، اس سے انسانی جانوں کا ضیاع، ہمارے قبائلی علاقوں کی تباہی اور ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں، چین کے ساتھ ہمارے یکطرفہ تعلقات نہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی ہیں اور ہم اسی طرح کے تعلقات امریکا سے بھی چاہتے ہیں۔

وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ 'آپ امریکا کے بہت مخالف ہیں' جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا اگر آپ امریکا کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امریکا کے خلاف ہیں، یہ سامراجی سوچ ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں یا میرے خلاف۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا، جب حکومت میں آیا تو سیکورٹی فورسز سے مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکا سے کہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ اسے چیک کریں، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹوئٹ اور اس پر جواب سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ٹوئٹر پر ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا، جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹوئٹر جنگ نہیں تھی۔امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 1989 میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ امریکا افغانستان سے جلد بازی میں نہ نکلے اور افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک کرے پھر تعمیر نو کیلیے بھی اس کی ضرورت ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔