ملک میں کہیں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے، گیس پریشر میں کمی کم دبائو اور کم قطر کی پائپ لائنیں ہیں، غلام سرور خان

سوئی سدرن میں 13 فیصد گیس چوری ہونے سے سالانہ 26 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس کے سدباب کیلئے کوششیں جاری ہیں‘ کم قطر والی گیس پائپ لائنوں کو تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، وفاقی وزیر پٹرولیم کی قومی اسمبلی کو آگاہی

منگل دسمبر 20:35

ملک میں کہیں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے، گیس پریشر میں کمی کم دبائو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ملک میں کہیں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے، گیس پریشر میں کمی کم دبائو اور کم قطر کی پائپ لائنیں ہیں، سوئی سدرن میں 13 فیصد گیس چوری ہونے سے سالانہ 26 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس کے سدباب کیلئے کوششیں جاری ہیں‘ کم قطر والی گیس پائپ لائنوں کو تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

منگل کو قومی اسمبلی میں مستونگ‘ قلات‘ نوشکی اور کوئٹہ کے مضافات میں گیس کے کم دبائو سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے بتایا کہ گیس کے کم دبائو کا مسئلہ ہے‘ یہ مسئلہ صرف ان علاقوں کے لئے نہیں بلکہ دیگر شہروں کے لئے بھی ہے۔ آبادیوں میں اضافہ‘ ہجرت سمیت دیگر اس کی وجوہات ہیں، گیس پائپ لائن کی تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے، سوئی سدرن نے 23 کلومیٹر تک پائپ لائن 8 انچ سے بڑھا کر 12 انچ کردی ہے جبکہ 12 انچ سے بڑھا کر 24 انچ کی ہے اور گیس پائپ لائنیں بھی بچھائی جارہی ہیں اس سے بہتری آئے گی اور گیس کی کمی کا ازالہ ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 12 انچ قطر کے پائپ کو بڑھا کر 24 انچ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس چوری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

مقامی نمائندوں کو بھی ان خامیوں کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں سے گیس چوری کی جاتی ہے ان لائنوں کو تبدیل کرنے سے گیس کا کم پریشر کا مسئلہ حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں گیس و بجلی چوری ہوتی ہے۔ 13 فیصد گیس چوری ہوتی ہے جس کی لاگت 26 ارب روپے ہے۔ گیس کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ اس کا سدباب کریں۔ آئندہ ہفتے بلوچستان کا دورہ کرکے یہ معاملہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی مکس نوشکی میں بھی دیا ہے اس میں جو مسئلہ تھا وہ حل کیا جارہا ہے۔ محمود شاہ نے کہا کہ گیس چوری میں عملہ ملوث ہے وہ رشوت لے کر غیر قانونی گیس کنکشن دیتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یقینا محکمہ والے بھی اس میں ملوث ہوں گے، مستونگ تک 16 قطر کی لائن بچھائی گئی ہے، 40 کلو میٹر مکمل ہوگئی ہے، آئندہ سال اس کو توسیع دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ اور قلات میں گیس کے کم پریشر کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ شوکت ترین نے کہا کہ پشاور میں ان کے علاقہ میں گیس چوری نہیں ہوتی لیکن یہاں گیس کے کم دبائو کا معاملہ ہے،گیس نہیں آتی تو یہ بھی لوڈشیڈنگ ہے۔ رائو محمد اجمل نے کہا کہ دو سال سے جن لوگوں نے درخواستیں دی ہیں ان کے جلد ڈیمانڈ نوٹس جاری کئے جائیں۔