آسٹریلوی حکومت کی ماں بچہ ہسپتالوں کے منصوبے میں تعاون کی پیشکش

بین الاقوامی پارٹنرز کے تعاون سے ماں اور بچے کی صحت کے اہداف حاصل کر لیں گے‘ڈاکٹر یاسمین راشد وزیر صحت پنجاب کی زیر صدارت اجلاس، میڈیکل شعبے کے الائونسز میں اضافے اور شعبہ صحت میں اصلاحات پر غور

بدھ 12 دسمبر 2018 17:36

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 دسمبر2018ء) آسٹریلوی ہائی کمیشن کے نمائندہ وفد نے وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات میں پنجاب میں 5ماں بچہ ہسپتالوں کے منصوبے کی زبردست تعریف کرتے ہوئے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ وفد میں ڈائریکٹر الہ دین نیازمند، مس سحر اور عمران سعید خان شامل تھے۔ وفد کے سربراہ الہ دین نیازمند نے کہا کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں دوران زچگی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

اس تناظر میں ماں اور بچے کی صحت کے خصوصی ہسپتالوں کا قیام ایک مثبت قدم ہے ۔ اس منصوبے کے لئے تکنیکی اور مالی معاونت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ماں بچہ ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے آسٹریلوی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ غربت کا خاتمہ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں استحکام تحریک انصاف کی حکومت کا فوکس ہے۔

(جاری ہے)

یو ایس ایڈ نے بھی ماں بچہ ہسپتالوں کے قیام میں تعاون کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

بین الاقوامی پارٹنرز کے تعاون سے ماں اور بچے کی صحت کے اہداف حاصل کر لیں گے۔ دوران زچگی شرح اموات میں کمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ضروری ہے۔ قبل ازیں وزیر صحت پنجاب کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں میڈیکل شعبے کے الائونسز میں اضافے کے امکانات اور شعبہ صحت میں اصلاحات پر غورکیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کیپٹن(ر) اعجاز، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ ثاقب ظفر، ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر مسعود صادق،پرنسپل ’سمز‘ پروفیسر محمود ایازاور ڈپٹی سیکرٹری محکمہ فنانس نے بھی شرکت کی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ڈاکٹرز، کنسلٹنٹس اور پروفیسرز کی کمی دور کرنے کے لئے انہیں خصوصی الائونس دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں جلد سمری منظوری کے لئے پنجاب کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طبی اصلاحات پر عملدرآمد آگے بڑھایا جا رہا ہے، مرحلہ وار ہر شعبے میں بہتری لائیں گے۔ میڈیکل تعلیمی اداروں کی استعدادکار بڑھانے کے لئے ان کو خودمختاری دی جائے گی۔

حکومت پہلے مرحلے میں 5 میڈیکل کالجوں کو خودمختار حیثیت دے گی۔ وزیر صحت نے کہا کہ ملک کی آبادی کا اکثریتی حصہ دیہات میں رہائش پذیر ہے۔ بڑے ہسپتالوں پر دبائو میں کمی کے لئے دیہی طبی مراکز میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ ثاقب ظفر کو ڈاکٹروں کے الائونسز میں اضافے کی تجویز پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ معاوضے دور دراز کے علاقوں میں تعینات ہونے والے ڈاکٹروں کے بڑھائے جائیں ۔ حکومت کے مثبت اقدامات کے تناظر میں امید ہے کہ ڈاکٹروں کی کارکردگی اور سروس ڈیلیوری میں بھی بہتری آئے گی۔