'ترکی نے جس تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا ،ْ وہ پاکستان میں کیسے کام کرسکتی ہے ،ْ چیف جسٹس

معارف فاونڈیشن کا دہشت گرد آرگنائزیشن سے کوئی تعلق نہیں ،ْ وکیل پاک ،ْ ترک اسکولز

جمعرات دسمبر 18:05

'ترکی نے جس تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا ،ْ وہ پاکستان میں کیسے کام کرسکتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاک-ترک اسکولز سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ترکی نے جس تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا، وہ پاکستان میں کیسے کام کرسکتی ہی ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے پاک-ترک اسکول کے انتظام کی حوالگی سے متعلق کیس سماعت کی۔

دوران سماعت پاک-ترک اسکولز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معارف فاونڈیشن کا دہشت گرد آرگنائزیشن سے کوئی تعلق نہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 2015 میں آرگنائزیشن نے 41 کروڑ 50 لاکھ کے اثاثے گولن کو منتقل کیے تھے۔اس موقع پر پاک-ترک اسکولز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2016 میں ترکی کے وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا اور دورے کے بعد پاکستانی حکومت نے پاک-ترک اسکولز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

(جاری ہے)

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ دہشت گرد آرگنائزیشن کا آپریشن سیکشن 42 کے تحت آتا ہے۔انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ترک حکومت نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے تو ایسی تنظیم کو کس طرح یہاں کام کی اجازت دے سکتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس آرگنائزیشن نے دنیا بھر میں اسکول کھول رکھے ہیں، کسی دہشتگرد تنظیم کو ایسی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاک-ترک اسکولز کا انتظام سنبھالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر وفاقی حکومت نے اسکول چلانے ہیں، تو خود ٹیک اوور کرے جس کے بعد سپریم کورٹ نے پاک-ترک اسکولز کی درخواست نمٹا دیا۔