محکمہ صحت میں بہتری ، عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے اور لائحہ عمل کو وزیر اعظم نے سراہا،ڈاکٹر ہشام انعام

جمعرات دسمبر 18:28

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ اُن کی طرف سے محکمہ صحت میں بہتری اور عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آسانی لانے کے لئے بنائے گئے منصوبے اور لائحہ عمل کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سراہتے ہوئے مزید عملی اقدامات کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات اور اصلاحات کی بدولت عو ا م کو صحت کی اچھی سہولیات آسانی سے فراہم کرنے ،صحت سہولیات کو دیہاتی علاقوں تک پھیلانے کے ساتھ دور داراز علاقوں کے عام شہری مستفید ہونگے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم پاکستان کو سو روزہ کار کردگی اور محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں اصلاخاتی منصوبہ بندی سے متعلق بریفنگ دینے کے بعد کیا۔

(جاری ہے)

جو گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاق ،پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزراء صحت ، سیکرٹری صحت اور دوسرے متعلقہ حکام نے شرکت کی اس موقع پر تینوں وزراء نے وزیر اعظم کو اپنی اپنی سو روزہ کارکردگی اور آئند پانچ سال کے لئے اپنے محکموں میں اصلاحات کے لئے تیار کردہ منصوبوں سے آگاہ کیا ۔وزیر صحت خیبر پختونخوا نے اجلاس کو اپنی سو روزہ کار کردگی کے حوالے سے بتایا کہ صحت سہولیات کی منصو بہ بندی میں سہولت کارڈ منصوبے کی توسیع، تمام صحت سہولیات کی فراہمی انسٹیٹیوٹس میں نئی صحت پالیسی کے مطابق بہتری اور فعالیت کے لئے ضروری اقدامات اور ضروریات کی نشاندہی،محکمہ صحت میںانسانی وسائل سے متعلق یونٹ کا قیام اور ہیلتھ کئیر کمشن کو مضبوط اور فعال بنانا شامل ہے ۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں خسرہ کی روک تھام کیلئے 95 فیصد تک ویکسنشین کی گئی ہے عوامی شکایت کے فوری ازالہ اور میڈیا کی توجہ کیلئے میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے ہسپتالوں میں ریکارڈ برقرار رکھنے کیلئے جامع اقدامات اٹھائے گئے جبکہ ڈی ایف آئی ڈی کی طرف سے 3.2 ملین پاؤنڈ کی امداد کے تحت مقرر کیے گئے اہداف کی سو فیصد تکمیل کے ساتھ خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی کی تیاری بھی کی گئی ہے وزیر صحت نے اجلاس کو بتایا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ میں ترمیم ، ادویات کے معیار کوجا نچنے کیلئے پالیسی اور پبلک پرائیویٹ پاٹنرشب کے تحت ادویہ ساز کمپنیوں کے ذریعے پانچ لاکھ مستحق مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کیئے ہیں۔