چیف جسٹس آزاد کشمیر کی زیر صدارت سٹیٹ جوڈیشل پالیسی ساز کا اجلاس

جلاس میں عدالتی پالیسی 2018 پر عملدرآمد کے علاوہ پورے آزاد جموں و کشمیر میں عدالتی مکانیت و دیگر انفراسٹرکچر کے امورزیر بحث آئے

جمعرات دسمبر 19:13

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس چوہدی محمد ابراہیم ضیاء کی زیر صدارت سٹیٹ جوڈیشل پالیسی ساز کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان، چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی،جج عدالت العالیہ جسٹس اظہر سلیم بابرنے شرکت کی۔اجلاس میں عدالتی پالیسی 2018 پر عملدرآمد کے علاوہ پورے آزاد جموں و کشمیر میں عدالتی مکانیت و دیگر انفراسٹرکچر کے امورزیر بحث آئے۔

سیکرٹری قانون وپارلیمانی امور نے اجلاس میں رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں ریاستی عدالتی پالیسی 2018 پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور مجموعی طور پر عملدرآمد اور نفاذ کے حوالے سے مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیاکہ جوڈیشل پالیسی 2018 کے نفاذ سے عدالتی کام کی رفتار کار میں بہتری آئی ہے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ ایک انتظامی جج مقرر کریں گے جو کہ ماتحت عدلیہ میں جوڈیشل پالیسی پر عملدرآمدکی نگرانی کریں گے تاکہ اگر کسی پہلو سے عملدرآمد میں تساہل یا کمی ہو تو اس کو دور کیا جا سکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن مقدمات کے تصفیہ کے لئے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی جانب سے ماتحت عدلیہ کو ایک وقت معین کے اندر تصفیہ کی ہدایت کی جاتی ہے ماتحت عدلیہ کی جانب سے معینہ مدت کے اندر انفصال لازمی ہو گاجبکہ مقدمہ کے تصفیہ کے لئے دی گئی میعاد میں توسیع صرف ناگزیر اور استثنائی صورت میں ہی ہو سکتی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالت عالیہ اور ماتحت عدلیہ میں حکم امتناعی سے متعلق معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد یکسوکیا جائے گا اور قواعد اور قانون کے مطابق جتنا جلدی ممکن ہو فیصلہ تصفیہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف جسٹس عدالت عالیہ کی تجویز پر عدالتی پالیسی 2018 کے حصہ "ب " (فوجداری مقدمات سے متعلق راہنمااصول) کی شق نمبر 4 کی سطر نمبر 2 میں درخواست ضمانت پر فیصلہ کے لئے دی گئی مدت 3 ایام سے بڑھا کر 7 ایام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر میں عدالتی مکانیت کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں قائم بلڈنگ کمیٹی جس کے رکن جسٹس غلام مصطفیٰ مغل جج سپریم کورٹ ہیں میں توسیع کرتے ہوئے چیف جسٹس عدالت عالیہ کی جانب سے بلڈنگ کمیٹی میں ایک معزز جج کی نامزدگی پر اتفاق ہوا اور پورے آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ کی عدالتی مکانیت کی تعمیر، نگرانی اور منصوبہ بندی کا کام کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالتی مکانیت کے رواں تعمیراتی منصوبہ جات کے حوالے سے متعلقہ محکمہ تفصیلات فراہم کرے گا اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظرچیف جسٹس ہائی کورٹ ترجیحات کا تعین کریں گے اور اس سلسلہ میں تفصیلات فراہم کریں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعظم آزاد دجموں و کشمیرکے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عدالتی مکانیت اور رواں عدالتی مکانیت کے منصوبہ جات کی تکمیل کے سلسلہ میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے عدالتی مکانیت اور انفراسٹرکچر کی ضروریات، تعمیراتی کام کی رفتار، معیار اور نگرانی کے سلسلہ میں ایک جامع پالیسی ترتیب دی جاسکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن جگہوں پر کام بہت زیادہ ہے ایسی جگہوں پر عدالتوں میں اضافی ججوں کی تعیناتی کے لئے تجاویز مرتب کی جائیں اور اس سلسلہ میں عملی اقدامات اٹھانے کے لئے تجاویز حکومت کو بغرض تخلیق آسامیاں و فراہمی دیگر وسائل ارسال کی جائیںگی۔