حکومت نے ق لیگ کے تمام مطالبات ماننے کی یقین دہانی کروا دی

جلد ہی ق لیگ کے مزید 2 وزراء حلف اٹھائیں گے، وزراء کو اپنے محکموں میں فری ہینڈ دیا جائے گا، پی ٹی آئی اور ق لیگ کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے پر اتقاق۔ دنوں سیاسی جماعتوں کے درمیان تحریری معاہدہ طے پا گیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 13:07

حکومت نے ق لیگ کے تمام مطالبات ماننے کی یقین دہانی کروا دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) :پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے درمیان تعلقات سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے تحریک انصاف اور ق لیگ کی اعلیٰ قیادت میں ملاقاتت ہوئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ق لیگ کو تمام تحفظات دور کروانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔دنوں جماعتوں میں تعاون جاری رکھنے اور اتحاد کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

دنوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس سلسلے میں ایک تحریری معاہدہ طے پایا ہے۔جلد ہی پنجاب یا وفاق میں ق لیگ کے دو وزراء حلف اٹھائیں گے جب کہ وزراء کو اپنے محکموں میں فری ہینڈ دیا جائے گا۔ق لیگ کے ایم این ایز والے حلقوں میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی جب کہ ق لیگ کے لوگوں کو کارپوریشن سمیت مخلتف محکموں میں جگہ دی جائے گی۔

(جاری ہے)

اور اہم امور میں ق لیگ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

جب کہ یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی وزیر اپنا استفعیٰ بھی واپس لے لیں گے۔واضح رہے ق لیگ سے تعلق رکھنے والے حافظ عمار یاسر نے وزارت کے معاملات میں بے جا مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھ۔مستعفی صوبائی وزیر عمار یاسر نے کہا کہ میرے کام میں بے جا مداخلت کی گئی، میں صرف نام کا وزیر بن کر نہیں رہ سکتا۔ جب میں کسی ایک ملازم کا بھی تبادلہ نہیں کر سکتا تو پھر وزارت کس کام کی؟ انہوں نے کہا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب وزیروں کا یہی حال ہے ، ہر وزیر کے پاس نئی کہانی ہے۔ ق لیگ نے نیک نیتی سے اتحاد کیا اور اسی لیے ہم حکومت کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کام میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی تھیں جس کی وجہ میں وقتا فوقتاً اپنی لیڈر شپ سے بھی اس بات کا تذکرہ کرتا تھا۔ اور انہیں بتاتا تھا ہمیں کام کرنے کا صحیح موقع نہیں مل رہا اور ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔

ا جس کے بعد ق لیگ کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی جو بے سود رہی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے خود اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات کرنے اور اتحادی جماعت ق لیگ کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔