دعوت دین کا کام بہت اعلی مقام اور مرتبہ رکھتا ہے، سراج الحق

عملی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پہ جمعیت کے تیار کردہ افراد موجود نہ ہوں، منور حسن

ہفتہ فروری 21:30

دعوت دین کا کام بہت اعلی مقام اور مرتبہ رکھتا ہے، سراج الحق
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) جمعیت کے جوانوں کو دیکھ کر اور ان سے مل کر ہمیں بھی جوش و جزبہ اور حوصلہ ملتا ہے،جمعیت کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات بہت بڑا سرمایہ ہیں، دعوت دین کا کام بہت اعلی مقام اور مرتبہ رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 66ویں سہ روزہ مرکزی سالانہ اجتماع ارکان کے دوسرے روز ہفتہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، سیکریٹری کراچی عبدالوہاب، مرکزی سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف، سیکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی محمد عامر ، ناظم کراچی حمزہ محمد صدیقی اور دیگر موجود تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ جمعیت کے نوجوانوں کے شعوری طور پر دعوت دین کی جدوجہدکا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانی کے دور میں اس راستے پر چلنا نعمت ہے اور یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی عنایت اور مہربانی ہے کہ اس نے اس راستے پر گامزن کیا ہے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام 1947میں مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی دور رس نظر اور ہدیات کی روشنی میں عمل میں آیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اس چھیاسٹھ ویں سالانہ اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن نہ کہا کہ جمعیت ایک جیتی جاگتی تحریک ہے جس نے معاشرے میں ہر قسم کے رنگ و نسل کے امتیاز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نوجوانوں کو سینے سے لگایا ہے۔

منور حسن کا کہنا تھا کہ عملی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پہ جمعیت کے تیار کردہ افراد موجود نہ ہوں۔طلبہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ کے استعمال سے مطالعے کے رجحان میں کمی آئی ہے اور اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اہنی گفتگو میں منور حسن نے کہا کہ مطالعے کو ہضم کرنے کے بہترین ذریعہ ہے کہ اس کے نوٹس بنائے جائیں اور گروپ ڈسکشن کی صورت میں تبادلہ خیال کیا جائے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو موقف امریکہ کے بارے میں جماعت اسلامی کا تھا کم و بیش وہی موقف آج لوگ اپنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تا کہ خطے کی موجودہ صورتحال طالبان اور امریکہ کے بیچ ہونے والے معاہدے پر منحصر ہے۔