موجود قانون کی موجودگی میں کراچی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،وسیم اختر

کونسل نے قرارداد پاس کی کہ انہی اختیارات کے ساتھ آئندہ بلدیاتی انتخابات پر رقم خرچ نہ کی جائے ،میئر کراچی کا تقریب سے خطاب

پیر اپریل 18:43

موجود قانون کی موجودگی میں کراچی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کوئی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اپریل2019ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے جو وسائل اور اختیارات ہیں اس سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اس لئے کونسل نے قرارداد پاس کی کہ انہی اختیارات کے ساتھ آئندہ بلدیاتی انتخابات پر رقم خرچ نہ کی جائے جس نظام سے عوام کو فائدہ اور شہریوں کے مسائل حل نہ ہوں اس کو جاری رکھنے کا کیا جواز ہے، یونین کونسل حسین آباد پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 10 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور مسائل حل ہوئے نظر آتے ہیں، سندھ میں 2 ہزار ارب روپے زمین پر نظر نہیں آرہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز حسین آباد میں اوکھائی میمن جماعت کے اشتراک سے تعمیر ہونے والے ماڈل پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر جماعت کے رہنمائوں عبدالوحید، شکیل کٹا، عثمان حسین پنجوانی اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کے چیئرمین ریحان ہاشمی نے بھی خطاب کیا، میئرکراچی نے کہا کہ یہ قطعہ اراضی کچرے کا ڈھیر تھا اور لینڈ مافیا کی نظریں اس پر تھی کہ قبضہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

اوکھائی میمن جماعت کے اشتراک سے یہاں خوبصورت پارک تعمیر کیا گیا جہاں بچوں، بزرگوں اور خواتین کی تفریح کے لئے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے یہ ایک بڑی مثال ہے، حسین آباد والے اپنے علاقے کو خوبصورت بنا رہے ہیں، کراچی کا بھی برا حال ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جو کام اوکھائی میمن جماعت نے کیا یہ حکومتوں کا کام ہے وہ ٹیکس وصول کرتی ہیں مگر ہماری حکومتیں عوامی اور فلاحی کام نہیں کر رہی، میئر کراچی نے کہا کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں مگر ان غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور آگے بہتری کی طرف جانا چاہئے، سندھ میں 2 ہزار ارب روپے ترقیاتی رقم استعمال ہوئی مگر زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے جو کام ہیں اس کو کرنے نہیں دیا جا رہا اور خود بھی نہیں کیا جارہا ہے تو عوام کی فلاح و بہبود کیسے ہوگی، میئر کراچی نے کہا کہ ملک کی ترقی اور عوامی خدمت میں سیاست نہیں دکھانی چاہئے اور نہ ہی پارٹی ، بلکہ جس کو حکومت کی ذمہ داری ملے اس کو بلاتخصیص کام کرنا چاہئے تاکہ ملک آگے جائے، میئر کراچی نے کہا کہ حسین آباد یونین کونسل پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 10کروڑ روپے خرچ کئے اس کے نتائج سامنے ہیں کہ علاقے میں پانی، سیوریج سمیت تمام مسائل حل ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی قائد اعظم کا شہر ہے یہاں پورے پاکستان کے لوگ ر ہتے ہیں اس بات پر ہمیں فخر ہے کہ یہ منی پاکستان ہے اور ہر زبان کے لوگ یہاں آباد ہیں ، وفاقی و صوبائی حکومتوں سے کہتاہوں کہ کراچی کو ترجیحات میں رکھو، کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا اس شہر کو تباہ کردیا گیا اب دوبارہ بنانا ہوگا۔