الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے عام انتخابات 2018 کی جائزہ رپورٹ پیش

انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کی سفارش ،پہلی مرتبہ جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ہے جسے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھیج دیا گیا ۱کسی کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں ہے جب کہ ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ نہیں کیا تھا بلکہ وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کے ممبران کے کالعدم تنظیم سے تعلق کا ذکر کیا تھا، سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب

پیر اپریل 21:08

الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے عام انتخابات 2018 کی جائزہ رپورٹ پیش
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 اپریل2019ء) الیکشن کمیشن پاکستان نے انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کی سفارش کر دی۔الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے عام انتخابات 2018 کی جائزہ رپورٹ پیش کر دی گئی۔ رپورٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے پیش کی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلی مرتبہ جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ہے جسے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھیج دیا گیا ہے۔

اسمبلیاں دو ماہ بعد رپورٹ ٹیبل کر دیں گی۔الیکشن کمیشن نے آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی ایس سمیت ٹیکنالوجی کے فوول پروف نہ ہونے تک استعمال نہ کی جائے جب کہ آر ٹی ایس سے متعلق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 13/2 پر نظرثانی کی جائے جو پریذائیڈنگ افسران کے پولنگ اسٹیشنز سے نتیجہ بھیجنے سے متعلق ہے۔

(جاری ہے)

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں ہے جب کہ ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ نہیں کیا تھا بلکہ وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کے ممبران کے کالعدم تنظیم سے تعلق کا ذکر کیا تھا۔

بابر یعقوب نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں کے لیے بھی جلد انتخابی حد مقرر کرنے کی سفارش کریں گے جب کہ بیلٹ پیپرز پر انتخابات میں کوئی تنازع نہیں ہوا تھا، بیلٹ پیپرز کے لیے کاغذ برطانیہ اور فرانس سے منگوانا پڑا تھا تاہم فرانس کی شپنگ کارپوریشن نے کاغذ کی ترسیل سے انکار کیا تھا اسی وجہ سے مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی کاغذ استعمال کرنے کی سفارشالیکشن کمیشن کی جائزہ رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی لا الیکشن کمیشن محمد ارشد نے کہا کہ الیکشن اصلاحات ایکٹ 2017 کے تحت پہلا الیکشن ہوا ہے اور قانون میں بہتری کے حوالے سے مزید سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن تکنیکی بنیاد پر الیکشن پٹیشن خارج کر سکتا تھا لیکن اب الیکشن پٹیشن پر کارروائی کا مکمل اختیار صرف ٹربیونل کے پاس ہے۔ دیر میں خواتین ووٹرز کو ووٹ سے روکنے اور کم ٹرن آٹ پر الیکشن منسوخ کر دیے گئے تھے اور الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کے حوالے سے پہلی بار فیصلہ کیا تھا جب کہ الیکشن کمیشن کے پاس اپنے رولز میں ترمیم کا بھی اختیار ہے۔