شیریں مزاری کا وزیراعظم کے حالیہ بیان پر تنقید کرنے والوں کو جواب

وزیراعظم عمران خان جرمنی اور فرانس کہنا چاہ رہے تھے، زبان پھسل گئی لیکن بار بار ان کے آدھے جملے کو دہرایا جا رہا ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اپریل 15:02

شیریں مزاری کا وزیراعظم کے حالیہ بیان پر تنقید کرنے والوں کو جواب
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2019ء) : وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایران کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ جاپان اور جرمنی کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کو لے کر ان پر بے جا تنقید کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے جرمنی اور جاپان کی سرحد کو آپس میں ملا دیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان تو اتحادی تھے تو پھر انہوں نے ایک دوسرے کے لاکھوں شہریوں کو کیسے ہلاک کر دیا اور یہ بھی کہ ہزاروں میل دور واقع یہ دو ملک ایک دوسرے کے ہمسائے کیسے ہو سکتے ہیں؟۔وزیراعظم کے اس بیان کے بعد اپوزیشن کی طرف سے بھی خوب تنقید کی جا رہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ مارے وزیراعظم سوچتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان کامشترکہ بارڈر ہے۔

(جاری ہے)

یہ کتنا شرمناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کھیلنے کی بنیاد پر آکسفورڈ میں داخلہ ملے گا تو ایسا ہی ہوگا۔تاہم اب سی متعلق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زبان پھسل گئی تھی۔اصل میں وہ جرمنی اور فرانس کہنا چاہ رہے تھے۔شیریں مزاری نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا آدھا جملہ دھرایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاہ کہ اگر دہشت گردہ ختم کرنی ہے تو ہمیں ایران اور پاکستان میں کالعدم تنظیموں کو ختم کرنا ہو گا۔

پہلی بار ایران کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معاہدہ کیا جا رہا ہے۔جب کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے بلاول بھٹو کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ حادثاتی چیئرمین صاحب وزیراعظم نے یہ کہاں کہا ہے کہ جرمنی اور جاپان ہمسائے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم نے کہا کہ جرمنی اور جاپان نے اپنے سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتیں بنائیں۔انہوںنے کہاکہ حادثاتی چیئرمین صاحب دیگر نام نہاد دانشوروں کیطرح آپ کے پلے بھی کچھ نہیں پڑا۔انہوںنے کہاکہ قوم کی دولت لوٹ کر آپ کو آکسفورڈ کی ڈگری دلوانے پر ضائع کی گئی۔