لاڑکانہ میں بچوں کا ماہر ڈاکٹر کیوں نہیں ہے؟ صحافی کے سوال پر بلاول بھٹو پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

بلاول بھٹو زرداری سندھ میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ، اس اسکی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ صحافی کے سوال پر اٹھ کر چلے گئے

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار مئی 15:18

لاڑکانہ میں بچوں کا ماہر ڈاکٹر کیوں نہیں ہے؟ صحافی کے سوال پر بلاول ..
لاڑکانہ(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26مئی2019) چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سندھ میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ اس اسکی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں پریس کانفرنس کر رہے تھے ، پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ لاڑکانہ جیسے شہر میں ایک بھی چائلڈ سپیشلسٹ(بچوں کے امراض کا ماہر ڈاکٹر) کیوں نہیں ہے جس پر بلاول کوئی جواب نہیں دے سکے اور اٹھ کر چلے گئے۔

واضح رہے کہ اتوار کی صبح بلاول بھٹو لاڑکانہ میں میڈیا سے بات کر رہے تھے، بات کرتے وہئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اب تک 23ہزار لوگوں کی سکریننگ کی جا چکی ہے اور جن ہوگوں میں ایچ آئی وی وائرس پایا گیا ان کی علاج کیا جا رہا ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ایڈز کو لاعلاج سمجھنا غلط ہے، ایڈز لاعلاج نہیں ہے۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ عالمی صحت کے ادارے کی تنظیم کا وفد جلد پاکستان آ کر اس حوالے سے تحقیقات کرے گا۔

اس موقعہ پر ایک صحافی نے چئیرمین پاکستان پیپلزل پارٹی سے سوال کیا کہ لاڑکانہ میں بچوں کا ماہر ڈاکٹر کیوں نہیں ہے؟بلاول بھٹو اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے اور اٹھ کر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ میں ایڈز کے کچھ کیسز سامنے آنے کے بعد تمام لوگوں کی سکریننگ شورع ہو گئی ہے اور تماما لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اب تک 23ہزار لوگوں کی سکریننگ کی جا چکی ہے جبکہ باقیوں کی سکریننگ کا عمل جاری ہے۔ بلاول بھٹو زرادری نے کہا ہے کہ اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صوبے سے اس بیماری کو ختم کیا جائے گا تاہم جب ان سے ان کے شہر میں بچوں کا ڈاکٹر نہ ہونے کا سوال کیا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔