بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز

جانی خیل میں ذیشان نامی 17 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ملک کے مجموعی پولیو کیسز میں 50 فیصد بنوں میں رپورٹ ہونے کے بعد ضلع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا، بابر بن عطا حکومت نے حالیہ مہم میں قطرے نہ پلانے والے والدین کے خلاف مقدمے درج نہ کرنے کا فیصلہ

پیر جون 14:46

بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، انسداد پولیو مہم کا دوبارہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جون2019ء) ملک میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔صوبائی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بنوں کے علاقے جانی خیل میں ذیشان نامی 17 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔خیال رہے کے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کو عمر بھر کے لیے معذوری کا سبب بننے والی بیماری پولیو کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

حالیہ کیس منظر عام پر آنے کے بعد صرف اس ایک ضلع میں پولیو کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 8 تک پہنچ چکی ہے۔خیال رہے کہ رواں سال کے دوران ملک میں پولیو کے 23 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے صوبہ خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 18، سندھ میں 3 اور پنجاب میں بھی 3 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا کے مطابق ملک کے مجموعی پولیو کیسز میں 50 فیصد بنوں میں رپورٹ ہونے کے بعد ضلع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اس وجہ سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران یہاں 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلوائے جائیں۔

دوسری جانب ملک میں پیر 17 جون سے انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز کردیا گیا ہے جس کے دوران سندھ کے 16، بلوچستان کے 13، خیبرپختونخوا کے 3 اور پنجاب کے 7 اضلاع میں بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی۔پولیو کی اس مہم کے دوران 55 لاکھ 30 ہزار بچوں کو سندھ، 43 لاکھ 10 ہزار بچوں کو پنجاب، 13 لاکھ 20 ہزار بچوں کو بلوچستان اور 11 لاکھ بچوں کو خیبر پختونخوا میں پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں حکومت نے حالیہ مہم میں ایسے والدین کے خلاف مقدمے درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔اس ضمن میں وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم نے 3 اضلاع میں جان بوجھ کر ماضی میں کیے جانے والے اس اقدام سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد جاننا چاہتے ہیں۔قبل ازیں 26 اپریل کو سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات اور انسدادِ پولیو مہم کی ٹیمز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پولیو مہم کو ’غیر معینہ مدت‘ تک کے لیے معطل کردیا تھا۔