باﺅلنگ کوچ کے امیدواروقار یونس نے چیف کوچ بننے میں بھی دلچسپی ظاہر کردی

کسی کے تحت کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتا،مصباح اچھے لیڈر رہے ،موقع ملا توکوچنگ بھی سیکھ لیں گے:لیجنڈری پیسر

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب اتوار اگست 15:57

باﺅلنگ کوچ کے امیدواروقار یونس نے چیف کوچ بننے میں بھی دلچسپی ظاہر ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25اگست 2019ء) لیجنڈری فاسٹ باﺅلر وقار یونس نے باﺅلنگ کوچ کیلئے درخواست دینے کی تصدیق کر دی، ان کے مطابق وہ ہیڈکوچ کے امیدوار بھی بن سکتے ہیں البتہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ایک انٹر ویو کے دوران وقار یونس نے کہا کہ میں نے باﺅلنگ کوچ کیلئے درخواست جمع کرا دی ہے، ابھی آخری تاریخ میں1 دن باقی ہے، شاید میں ہیڈ کوچ کیلئے بھی اپلائی کر دوں تاہم مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ابھی ذہنی طور پر اس کیلئے تیار نہیں ہوں، کوشش کروں گا کہ باﺅلنگ کے شعبے میں پاکستان کی مدد کر سکوں۔

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں کسی کے تحت کام نہیں کر سکتا، میں نے بہت سے کوچز کے ساتھ رہ کر ہی کوچنگ سیکھی تھی،آجکل یہ کوئی بات نہیں کہ کون کتنا بڑا پلیئر ہے،سٹیو وا نے پلیئرز کی رہنمائی کی ، رکی پونٹنگ نے بھی جسٹن لینگر کے تحت کام کیا،اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہیڈ کوچ کون ہے، اصل چیز یہ ہے کہ آپ کیسے کام کرتے ہیں، مجھے کوچنگ کا تجربہ اور میں اپنے دائرہ کار سے واقف ہوں، کون کوچ آئےگا یا میرے رتبے پر اس سے کیا فرق پڑے گا میں اس حوالے سے نہیں سوچ رہا، میں ٹیم کی بہت مددکر سکتا ہوں۔

(جاری ہے)

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مصباح الحق کے ساتھ کام کے بارے میں وقت سے پہلے بات کرنا درست نہیں مگر وہ بہترین شخصیت کے مالک ہیں، انھوں نے پاکستان کو نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنایا، ہم دونوں نے بطور کوچ اور کپتان ساتھ کام بھی کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ انھیں یہ جاب ملے گی یا نہیں، یا وہ کوچنگ کرنا چاہتے ہیں،البتہ مصباح اچھے لیڈر رہے، مجھے نہیں پتا کہ وہ بطور ہیڈکوچ کیسے کام کرتے ہیں مگرلیڈر سیکھ لیتے ہیں، اگر انھیں ہیڈکوچ بنایا گیا تو تھوڑا سا وقت لگے گا اور وہ سیکھ جائیں گے۔

ماضی میں 2 بار ہیڈ کوچ کی پوسٹ چھوڑنےوالے وقار یونس نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ اس بار ہچکچاہٹ کی وجہ ماضی کے تجربات ہیں،انھوں نے کہا کہ اب مختلف کرکٹ بورڈ اورنئے لوگ ہیں،اچھی ٹیم نظر آرہی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسکی وجہ سے میں نے اب ہیڈ کوچ کیلئے درخواست نہیں دی، جب میں نے پہلی بار کوچنگ چھوڑی تو فیملی وجوہات تھیں،میں پاکستان اور اہلخانہ آسٹریلیا میں مقیم تھے، اسی وجہ سے مجھے مسائل ہوئے اور کام چھوڑنا پڑا۔