جام پور شہر اور نواحی علاقوں میں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ بِنا کسی روک ٹوک کے چلایا جا رہا ہے

قبرستان میں ہر وقت ٹولیوں کی ٹولیاں نشے کی لعنت سے اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرتی دکھائی دیتی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل 3 ستمبر 2019 15:31

جام پور شہر اور نواحی علاقوں میں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ بِنا کسی ..
جام پور، ضلع راجن پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،3 ستمبر، 2019ء، نمائندہ خصوصی، عنصر سجاد) نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو عادی افراد کی زندگیوں کو بہت جلد پانی کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔یوں تو حکومتی اداروں بالخصوص پولیس کی طرف سے اس لعنت کے خاتمے کے بہت دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نشہ کے استعمال میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔جام پور شہر اور اس کے نواح میں بھی شہر منشیات کے مکروہ دھندہ کو پوری آزادی سے چلایا جا رہا ہے۔

قبرستان جیتے جاگتے انسانوں کا مسکن بن گئے۔ جہاں وقت کی پابندی کئے بغیر ٹولیوں کی ٹولیاں نشے کی لعنت سے اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرتے دکھائی دیتی ہیں۔۔تفصیلات کے مطابق جام پور میں مختلف مقامات کے علاوہ قبرستانوں میں بیٹھ کر منشیات کے عادی افراد چرس، ہیروئن جیسے مہنگے نشوں کے علاوہ نشہ آور انجیکشنوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں اور نشہ کرنے کے بعد قبروں کا تقدس پامال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

(جاری ہے)

منشیات کی خریداری اور اس کے نقصانات کے حوالے سے ان عادی افراد کا کہنا ہے کہ وہ بے روزگاری اور غلط صحبت کی وجہ سے اس لعنت میں پھنس چکے اور اس سے نجات چاہتے ہیں۔نشے کے عادی ایک فرد نے کہا کہ ہم غریب آدمی ہیں ، دن بھر مزدوری کرتے ہیں تو کمائے جانے والے سو دو روپے سے برمانی (منشیات فروش) سے نشہ خرید لیتے ہیں۔ ہم اس علت میں پڑ کر اپنا خود نقصان کررہے ہیں ہم اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں حکومت ہماری مدد کرے۔

ایک دوسرے نشئی کا کہنا تھا کہ وہ دو بچوں کا باپ ہے جو کما کر لاتا ہے نشے میں اڑا دیتا ہے اس کے علاج کیلئے حکومت اسے بیرون ملک بھجوا دے۔ جام پور کے قبرستانوں میں نشئیوں کا راج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر میں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ سر عام جاری ہے اور تمام تر دعووں کے باوجود پولیس یا دیگر ادارے اس لعنت پرقابو نہیں پاسکے جو نا صرف ان اداروں کی ناکامی بلکہ محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کے اس دھندے کی پشت پناہی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ شہریوں نے وزیراعلی پنجاب سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔