ایف پی سی سی آئی کے صدر اوردیگرعہدیداران کی معیادکوایک سال برقرا رکھا جائے مرزا عبد الرحمان

مدت بڑھانے سے چھوٹے صوبوں کا حق ما را جائے گا جو سراسر زیادتی ہے،وزیر اعظم عمران خان نوٹس لیں، ایف پی سی سی آئی کی موجودہ کیبنٹ چور دروازے سے ایف پی سی سی آئی پر اپنا قبضہ قائم رکھنا چاہتی ہے

ہفتہ ستمبر 17:40

ایف پی سی سی آئی کے صدر اوردیگرعہدیداران کی معیادکوایک سال برقرا رکھا ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 ستمبر2019ء) ایف پی سی سی آئی کے سابقہ نائب صدر ،گروپ لیڈر اٹک چیمبرآف کا مرس ، یوبی جی گروپ کے رہنما اور ایگزیکٹیو کمیٹی ممبر مر زا عبد الرحمان نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی موجودہ کیبنٹ چور دروازوں سے ایف پی سی سی آئی پر اپنا قبضہ قائم رکھنا چاہتی ہے جس کے لئے ایف پی سی سی آئی کے صد ر اور سیکریٹری جنر ل نے سینٹ آف پاکستان کو ایک خط لکھا جسمیں ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران کی مدت ایک سال سے بڑھا کر تین سال کرنے کی سفا رش کی گئی ہے ۔

صدر اور سیکریٹری جنرل نے خط میں کہا ہے کہ ایک سال کی مدت بہت قلیل ہے جس کی وجہ سے کوئی قانون یا پا لیسیاں نہیں بنا ئی جا سکتی ہیں ۔ان تمام سفارشات کو دیکھتے ہوئے سینٹ کے چیئرمین نے ڈی جی ٹی او کو خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ مختلف چیمبر ز ، ایسوسی ایشنز ، بالخصوص اٹک چیمبر نے وا ضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کے پانچ صوبے ہیں ،جس میں دو دفعہ صوبہ پنجاب اور سند ھ جبکہ ایک ایک بار چھوٹے صوبے جنمیں بلوچستان ، خیبر پختونخوا،نادرن اور فیڈرل ایریازشامل ہیں کی باری آتی ہے ۔

(جاری ہے)

اسطرح سے چھوٹے صوبوں کو پانچ سال بعد ایف پی سی سی آئی کی نمائندگی کا حق ملتا ہے ۔ اگر صدر کا دورانیہ تین سال ہوگا تو چھوٹے صوبوں کی باری اکیس سال بعد آئے گی ۔ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس سینٹ نے 11ستمبر2019کو دوپہر 11بجے ایک میٹنگ منعقد کی ہے جسمیں صرف پانچ چیمبرز لا ہور ، کراچی ، اسلام آباد ، پشاور اور کوئٹہ کو مد عو کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں تقریبا ً250کے قریب چیمبرز اور ایسوسی ایشنز ہیں اور ان سب کی رائے لینابھی نہا یت ضروری ہے ۔

مرزا عبد الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ، صدر پاکستان اور چیئرمین سینٹ سے پاکستان کے تمام کاروباری ادارے ، چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کا یہ مطا لبہ ہے کہ اس غیر قانونی اجلاس کونہ بلا یا جائے کیونکہ وز یر اعظم عمران خان تو پہلے ہی ایف پی سی سی آئی کے صدر کی نا کا میوں کی وجہ سے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے براہ راست رابطہ کرتے ہیں ۔

ایف بی آر اور بجٹ مشکلات کی وجہ سے پاکستان بھر کی تاجر برا دری پہلے ہی حکومت کے خلاف سرآپا احتجاج ہے اور ہڑتا ل کی دھمکیاں دے رہی ہے اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی حکومت کومزید پریشان کرنے کیلئے ایف پی سی سی آئی کی صدارت کی معیادکے طے شدہ مسئلے کواٹھانا ، وقت ضا ئع کرنے کے مترادف ہے اور حکومت کیلئے نئی درد سری پیدا کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ مر ز اعبد الرحمان نے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطا لبہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کا مشن غلط کاموں کو سرعام بے نقاب کرنا ہے تاکہ ملکی تجارت کا اثر ملکی و غیر ملکی سطح پر بھی پڑ سکے ۔