آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر کی سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی پیشکش، شہزادہ محمد بن سلمان نے انکار کر دیا

’’امریکا سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں مد دینے کو تیار ہے‘‘: ٹرمپ، ’’مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘: سعودی ولی عہد

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 11:40

آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر کی سعودی عرب کو دفاعی تعاون ..
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2019ء) آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر نے سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو پیشکش کی کہ امریکا سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں مد دینے کو تیار ہے جس پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز سعودی عرب میں دو آئل ریفائنریز پر ڈرون حملے کیے گئے جس کے سبب سعودی عرب کی آدھی سے زیادہ آئل پروڈکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔

(جاری ہے)

مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ ہومپیو نے مزید کہا ہے کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہوں۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انرجی مارکیٹ کو آئل فراہم کیا جا رہا ہے جب کہ اس جارحیت کا ذمہ دار ایران ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دے دیا ہے۔