گزشتہ روز سعودی عرب کی آئل ریفائنری پہ ہونے والے حملے کے الزام پر ایران نے شدید ردِعمل دے دیا

مائیک پومپیو نے دباﺅ ڈالنے کی پالیسی میں ناکامی پر اپنی سمت تبدیل کر لی ہے، ایران پر الزام تراشی سے تباہی ختم نہیں ہو گی: ایرانی وزیرِ خارجہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 16:34

گزشتہ روز سعودی عرب کی آئل ریفائنری پہ ہونے والے حملے کے الزام پر ایران ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2019ء) گزشتہ روز سعودی عرب کی آئل ریفائنری پہ ہونے والے حملے کے الزام پر ایران نے شدید ردِعمل دے دیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مائیک پومپیو نے دباﺅ ڈالنے کی پالیسی میں ناکامی پر اپنی سمت تبدیل کر لی ہے ، امریکہ اور اس کے اتحادی یمن میں پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ امریکہ کا خیال تھا کہ ہتھیاروں کی برتری اسے فوجی فتح دلا ئے گی ۔

ان کا کہناتھا کہ ” ایران پر الزام تراشی سے تباہی ختم نہیں ہو گی ، جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کیلئے ایران کی 15 اپریل کی تجویز کو قبول کیا جائے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں دو آئل ریفائنریز پر ڈرون حملے کیے گئے جس کے سبب سعودی عرب کی آدھی سے زیادہ آئل پروڈکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔

مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ پومپیو نے مزید کہا ہے کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہوں گے۔ اب ایران نے اس بیان ہر شدید ردِ عمل دے دیا ہے۔