ہمارا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں جمہوریت، ترقی و خوشحالی کے حوالہ سے میڈیا نہ صرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ حکومت پر تنقید اصلاح کا کام دیتی ہے،

ہم نے ابھی تک میڈیا ٹربیونلز کے حوالہ سے قانون سازی نہیں کی بلکہ ابھی کابینہ میں تجاویز منظور ہوئی ہیں، کابینہ میں ذمہ دارانہ رول کی وجہ سے پیمرا ری سٹرکچر کرنے پر زور دیا گیا،میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ، میڈیا کی طاقت کے بغیر کوئی ریاست طاقتور نہیں ہو سکتی، صحافیوں کی جبری بے دخلیوں کا خاتمہ کریں گے، تنخواہوں کی ادائیگیاں یقینی بنائیں گے، صحافیوں کی صحت و رہائش کی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب

جمعرات ستمبر 17:13

ہمارا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں جمہوریت، ترقی و خوشحالی کے حوالہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ہمارا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں جمہوریت، ترقی و خوشحالی کے حوالہ سے میڈیا نہ صرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ حکومت پر تنقید اصلاح کا کام دیتی ہے، پہلے ایک جماعت کا صدر صرف سی این این اور بی بی سی دیکھتا تھا تاکہ اپنا فوکس بین الاقوامی سیاست پر رکھ سکیں، ابھی تک ہم نے میڈیا ٹربیونلز کے حوالہ سے کوئی قانون سازی نہیں کی بلکہ ابھی کابینہ میں تجاویز منظور ہوئی ہیں، کابینہ میں ذمہ دارانہ رول کی وجہ سے پیمرا ری سٹرکچر کرنے پر زور دیا گیا۔

وہ جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوام کی پناہ گاہ پارلیمنٹ جبکہ صحافیوں کی پارلیمنٹ میں پناہ گاہ پی آر اے ہے، پارلیمانی رپورٹرز کو منظم کرنے میں پی آر اے نے بہترین انداز میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے جس میں بڑا رول اس کا مضبوط ہونا ہے، دوسرا کردار میڈیا کا فعال ہونا ہے، وزیراعظم عمران خان اس کردار کو فعال کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی طاقت کے بغیر کوئی ریاست طاقتور نہیں ہو سکتی، ریاست کو طاقتور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ میڈیا کو مضبوط بنایا جائے، آج ایک وزیراعظم ہے جو عوامی مسائل اور داخلی مسائل کو میڈیا کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں، اس ساری صورتحال کے ساتھ پاکستان کا ملکی مفاد بھی جڑا ہے انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نے ملک کو سنبھالا تو معیشت کی صورتحال دگر گوں تھی، میڈیا عوامی مسائل کو ضرور اجاگر کرے بلکہ ملکی مفاد کو ترجیح دے، وزیراعظم سمجھتے ہیں میڈیا کی طاقت سے دنیا کو اپنے ساتھ کھڑا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو بتا سکتے ہیں ہم کرپشن کا خاتمہ کرنے میں سنجیدہ ہیں، ہم سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں، موجودہ حکومت قائداعظم کے ترقی پسند بیانیہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی غیر ذمہ داری سے گریز کرنا ہوگا، سیاسی لحاظ سے عوام اور میڈیا کو جواب دہ ہیں، البتہ قومی مفاد کے حوالے سے تھوڑی سی ذمہ داری چاہیئے ، ایسی خبر جو معیشت یا دیگر اہم ایشو سے جڑی ہے اس کا حکومتی مؤقف آنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کونسل آف پاکستان کے اندر کتنی شکایات میڈیا ورکرز کی حل کی گئی، پیمرا میں کسی بھی میڈیا مالک کو لائسنس دیتے ہوئے تنخواہوں کی یقین دہانی کب دی گئی 658 کیسز اس وقت میڈیا ورکرز، قومی مفادات سے جڑے ہیں جو زیر التوا ہیں، ہم نے وزارت قانون سے بھی مشاورت کی ہے، آپ سٹیک ہولڈرز ہیں، آپ سے مشاورت کے ساتھ ہی منظوری دی جائیگی ، پی آر اے سمیت تمام صحافتی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرینگے، اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، اتفاق رائے سے قانون سازی ہوگی اور یہ معاملہ حتمی طور پر سپیکر کے پاس پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی جبری بے دخلیوں کا خاتمہ کریں گے، تنخواہوں کی ادائیگیاں یقینی بنائیں گے، حکومت سولو فلائٹ نہیں لے گی، صحافیوں کی صحت و رہائش کی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے منتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے پی آر اے اورپارلیمنٹ کا یکجا ہوناضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت میں آئی تو ملک سنگین معاشی بحران کا شکار تھا، اب ملک میں صنعتیں لگ رہی ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔