نوازشریف کا کہنا ہے کہ و ہ پاکستان نہیں آئیں گے، جس نے جو کرنا ہے کر لے

نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو پیغام بھیجا ہے کہ کسی طرح مریم نواز کو ملک سے باہر بھیج دیں، پھر میں انہیں دیکھوں گا جنہوں نے مجھے نکالا ہے، عارف حمید بھٹی

Khurram Aniq خُرم انیق جمعہ فروری 10:29

نوازشریف کا کہنا ہے کہ و ہ پاکستان نہیں آئیں گے، جس نے جو کرنا ہے کر ..
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-14فروری 2020ء) پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف اس وقت علاج کے غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔عدالت سے علاج کے لئے ضمانت حاصل کرنے والے نوازشریف کا لندن میں علاج جا ری ہے جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور ان کے تنقیدیوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ نوازشریف طبیعت خراب نہیں بلکہ جیل سے بچنے کے لئے لندن میں موجود ہیں۔

اسی پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنے ڈاکٹروں اور رہنماؤں کو پیغام جاری کر دیا ہے کہ جس نے جو کرنا ہے وہ کرلے، نوازشریف پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ساتھ ہی ساتھ ایک اور پیغام جاری کیا گیا ہے کہ ن لیگ کے رہنما کسی طرح کوشش کر کے ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی لندن بھیج دیں۔نوازشریف کا کہنا ہے کہ پھر وہ ان لوگوں کو دیکھیں گے جنہوں نے انہیں باہر نکالا تھا۔

(جاری ہے)

نوازشریف دسمبر میں بیماری کی وجہ سے ضمانت کی درخواست دے کر لندن روانہ ہوئے تھے جس کے بعد ان کے بھائی شہبازشریف بھی ان کے ہمراہ چلے گئے تھے ۔شہبازشریف بھی اس وقت لندن میں موجود ہیں جبکہ ان کے وطن واپسی کی اطلاعات بھی آرہی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مارچ کے مہینے میں پاکستان کی سیاسی صورتحال کو گرم کر دیں گے۔

کچھ دن قبل ایسی بھی خبریں منظر عام پر آئی تھیں جس میں کہا جا رہا تھا کہ نوازشریف نے اپنے بھائی اور صدر مسلم لیگ ن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان جا کر سیاسی صورتحال دیکھیں، یہ نہ ہو کہ ن لیگ سے پنجاب بھی چھین جائے۔لیکن اب نوازشریف نے شہبازشریف کو ہدایت کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی صورت پاکستان نہیں آئیں گے۔عارف حمید بھٹی نے بات کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ نوازشریف نے اپنے ڈاکٹروں اور رہنماوں کو پیغام جاری کر دیا ہے کہ جس نے جو کرنا ہے وہ کرلے، نوازشریف پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔

ساتھ ہی ساتھ ایک اور پیغام جاری کیا گیا ہے کہ ن لیگ کے رہنما کسی طرح کوشش کر کے ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی لندن بھیج دیں۔نوازشریف کا کہنا ہے کہ پھر وہ ان لوگوں کو دیکھیں گے جنہوں نے انہیں باہر نکالا تھا۔