ریونیو شارٹ فال ،اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس نہ بڑھایا جائے: میاں زاہد حسین

پولٹری پر ٹیکس لگنے سے ملک میں پروٹین کا بحران جنم لے گا، ملک میں فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا

پیر فروری 17:10

ریونیو شارٹ فال ،اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس نہ بڑھایا جائے: میاں زاہد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ400 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لئے اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس نہ بڑھایا جائے کیونکہ اس سے ملک میں فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا۔

آئی ایم ایف کے حکم پربجلی کے شعبہ کے نقصانات کا ملبہ عوام پر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو معیشت بیٹھ جائے گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ آئی ایم ایف نے ٹیکس کے غیر حقیقی اہداف میں کمی سے انکار کر دیا ہے اور حکومت کو ٹیکس کی مد میں فی الحال200 ارب روپے مزید جمع کرنے کی ہدایت کی ہے جسکے بعد اشیائے خورد و نوش اور اشیائے ضروریہ پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس سے زراعت، لائیوا سٹاک اور پولٹری سیکٹر تباہ ہو جائے گا جبکہ عوام کی حالت غیر ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

ڈیری پراڈکٹس مچھلی، گوشت ،پولٹری اور جانوروں کی خوراک پر ٹیکس بڑھانے سے ملکی آبادی میں پروٹین کا بحران جنم لے گااور عوام جو پہلے ہی غذائیت کی کمی کا شکار ہے مزید لاغر ہو کر معاشی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ گوشت پہلے ہی عوام کی پہنچ سے باہر نکل چکا ہے اس لئے پولٹری سیکٹر کو ہدف نہ بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ جن اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا امکان ہے ان میں سویابین میل، آئل کیک، روغنی بیج، کپاس، ملک میں تیار نہ ہونے والی مشینری اور پلانٹ، ڈیری مصنوعات، پولٹری فیڈ، مویشیوں کی خوراک، صنعتی فضلے کو جلانے والا سامان، صفائی کا سامان، برف کو ہٹانے والے سامان، ویسٹ پیپر، بایو ڈیزل تیار کرنے والی مشینیں، لنڈے کے کپڑے اور جوتے، ٹریکٹر، کھیتی باڑی کا سامان، ایریگیشن، نکاسی آب اور ایگرو کیمیکل سامان، پودے لگانے والی مشینیں، تھریشر، زرعی پیداوار ذخیرہ کرنے والا ساز و سامان، فصل پکنے کے بعد استعمال ہونے والی مشینری، ڈش ریسیوور، پولٹری کی مشینری، ملنگ انڈسٹری کی مشینیں، کھاد، تیار خوراک، ریسٹورنٹس اور بیکریاں، ایل این جی، ساسیجز، جمی ہوئی اور محفوظ کی گئی مچھلی ،پولٹری ،گوشت کی مصنوعات اور نیم تیار شدہ سامان شامل ہیں۔

مختلف اقسام کی مشینوں پر ٹیکس بڑھانے سے زرعی اور صنعتی شعبہ کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا جبکہ جو اشیاء مہنگی ہو ں گی انکی ا سمگلنگ بڑھ جائے گی جس سے حکومت کو فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو گا۔