Live Updates

مریم نواز نے معاہدے کے تحت جنوری میں باہر جانا تھا

مگر ن لیگ نے معاہدے کو توڑ کر باہر لابنگ کرنا شروع کردی، نواز شریف کی امریکی کانگرس کے دو اہم اراکین کے ساتھ ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں بہت بھاری رقم بھی انکے حوالے کی گئی تھی: سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا انکشاف

Usama Ch اسامہ چوہدری بدھ فروری 20:18

مریم نواز نے معاہدے کے تحت جنوری میں باہر جانا تھا
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 26 فروری 2020) : مسلم لیگ ن کا حکومت کے خلاف لابنگ جاری، تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے معاہدے کے تحت جنوری میں باہر جانا تھا مگر ن لیگ نے معاہدے کو توڑ کر باہر لابنگ کرنا شروع کردی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا انکے پاس حکومت کے خلاف ایک ویڈیو موجود ہے جو انھوں نے باہر بھجوا دی تھی، لیکن بعد ازاں گوجرانوالہ رینج سے تعلق رکھنے والے ایک لیگی رہنماء نے مریم نواز کو بتایا کہ حکومت کے پاس بھی انکی ایک ویڈیو موجود ہے، اس وجہ سے لیک نہیں کی گئی۔

انکا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے امریکی کانگرس کے دو اہم اراکین سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

(جاری ہے)

واضع رہے کہ اس سے قبل عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ میں کچھ لوگوں سے رابطے کیے جس کی ریکارڈنگ پاکستان آگئی، مریم نواز کے باہر جانے کی ایک ہی صورت ہے کہ جب نواز شریف اپنی غلطیوں کو مان کر اسکا ازالہ کرلیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف دوبارہ پھنس چکے ہیں اور ان کو پھنسانے والے انکے بڑے بھائی ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ میں کچھ لوگوں سے رابطے کیے جس کی ریکارڈنگ پاکستان آگئی تاہم شہباز شریف کے بچانے والے ابھی بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ شیخ رشید نے درست کہا تھا کہ شہباز شریف اپنی غلطی کو سدھارنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں اور نواز شریف نے ہی شہباز شریف کے راستے میں مشکلات پیدا کیں۔

جب کہ دوسری جانب سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کے پیر کو دل کے آپریشن کی خبروں کی تر دید کی تو وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ سے کیوں نہیں بھجوائی جا رہیں؟ بظاہر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نہ بھیجنے کی ایک ہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ہونیوالے ٹسٹ پاکستان میں ہونیوالے میڈیکل ٹسٹ سے مختلف ہیں اور برطانوی ڈاکٹر نواز شریف کو شدید بیمار قرار دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

ہاس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پنجاب حکومت نے جو میڈیکل ٹیسٹ کروائے وہ مشکوک تھے، ان حالات میں پنجاب حکومت کو ایک انکوائری بٹھانی چاہیے جو محکمہ صحت، لیبارٹری اور ڈاکٹر صاحبان کی شریف خاندان سے ملی بھگت کے معاملے کا جائزہ لے اور عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھے۔
کرونا کی امریکہ پر یلغار سے متعلق تازہ ترین معلومات