نیدرلینڈز کی عدالت کا نانی کو نواسیوں کی تصاویر ڈیلیٹ کرنے کا حکم

بزرگ خاتون نے بچوں کے والدین کی اجازت کے بغیر فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر شائع کی تھیں. جج

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مئی 18:34

نیدرلینڈز کی عدالت کا نانی کو نواسیوں کی تصاویر ڈیلیٹ کرنے کا حکم
ایمسڈریم(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 مئی۔2020ء) نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ایک نانی کو اپنے نواسے نواسیوں کی وہ تصاویر ڈیلیٹ کرنی پڑیں گی جو انہوں نے بچوں کے والدین کی اجازت کے بغیر فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر شائع کی تھیں‘جج نے قرار دیا ہے کہ یہ معاملہ ڈیٹا کے تحفظ کے یورپی قواعد جی ڈی پی آر کے دائرہ کار میں آتا ہے.

یہ معاملہ عدالت میں اس وقت پہنچا جب ان خاتون اور ان کی بیٹی کے درمیان ان بن پیدا ہوگئی‘اس سے پہلے مذکورہ خاتون نے سوشل میڈیا پر شائع کی گئی اپنے نواسے نواسیوں کی تصاویر ڈیلیٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا.

(جاری ہے)

بچوں کی والدہ نے ان سے کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ ان تصاویر کو ڈیلیٹ کر دیں ایک قانونی ماہر کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ یہ حکم یورپی عدالت انصاف کے سالہا سال سے قائم موقف کی عکاسی کرتا ہے.

جی ڈی پی آر قوانین کا اطلاق مکمل طور پر ذاتی ڈیٹا یا اس کے گھریلو استعمال پر نہیں ہوتا‘تاہم حکمنامے کے مطابق یہ استثنیٰ یہاں اس لیے حاصل نہیں کیا جا سکا کیونکہ سوشل میڈیا پر تصاویر شائع کرنے سے عوام کے ایک وسیع حلقے کو ان تک رسائی حاصل ہوگئی تھی. حکمنامے میں کہا گیا کہ فیس بک کے معاملے میں یہ خارج از امکان نہیں ہے کہ شائع کی گئی تصاویر پھیلتی رہیں اور تیسرے فریق کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں‘ خاتون کو اب یہ تصاویر ڈیلیٹ کرنی ہوں گی یا روزانہ 50 یورو کا جرمانہ تب تک ادا کرنا ہوگا جب تک کہ وہ اس حکم کی تعمیل نہیں کر دیتیں جرمانے کی رقم زیادہ سے زیادہ ایک ہزار یورو قرار دی گئی ہے.

اگر انہوں نے مستقبل میں بچوں کی تصاویر شائع کیں تو انھیں مزید 50 یورو یومیہ کا ج±رمانہ ادا کرنا ہو گا‘ایک وکیل برائے ٹیکنالوجی نیل براﺅن کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ حکم کئی لوگوں کو حیران کر دے گا جو ٹویٹ کرنے یا تصاویر شائع کرنے سے پہلے زیادہ نہیں سوچتے.