تین بچوں نے سپائیڈر مین بننے کے لیے خود کو کالی بیوہ مکڑی سے کٹوا لیا

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ مئی 23:53

تین بچوں نے سپائیڈر مین بننے کے لیے خود کو کالی بیوہ مکڑی سے کٹوا لیا

بولیویا کے تین  لڑکے اس وقت ہسپتال پہنچ گئے جب انہوں نے خود کو سپرہیرو سپائیڈر میں بدلنے کے لیے کالی بیوہ مکڑی سے کٹوا لیا۔
مارول کا سپائیڈر مین سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا افسانوی سپر ہیرو ہے۔ بہت سے بچے   سپائیڈر مین کی فلمیں دیکھ کر تھکتے نہیں ہیں۔بچوں کا فلمیں دیکھنا  بری بات نہیں لیکن اُن کا سپائیڈر مین کو افسانوی کردار کی بجائے اصل کردار سمجھنا یقیناً خطرناک ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بولیویا کے تین لڑکوں نے فلم کی نقل میں خود کو سپائیڈر میں بنانے کے لیے  دنیا کی خطرناک ترین مکڑی کالی بیوہ سے کٹؤا لیا۔
بولیویا کے اخبار ایل دربر کے مطابق تینوں لڑکے سگے بھائی ہیں اور اُن کا تعلق پوٹوسی سے ہے۔ اُن کی عمریں 8، 10 اور 12 سال ہیں۔

(جاری ہے)

کالی بیوہ مکڑی کے کاٹنے کے باعث انہیں ہسپتال کا منہ دیکھنا پڑا۔

ان تینوں بچوں نے کالی بیوہ مکڑی کو اپنی جلد پر بٹھایا اور اسے لکڑی کی  چھڑی سے کچوکے لگاتے رہے تاکہ وہ اُن کی جلد  پر کاٹ لے۔
یہ تینوں بچے  سپائیڈر مین کے بہت زیادہ چاہنے والے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں وہ اپنی بکریوں  کو لے کر  چرانے کے لیے بولیویا کے  پوٹوسی علاقے کے ٹاؤن چایانتا کے مضافات میں لے گئے۔لڑکوں نے وہاں پر  خطرناک کالی بیوہ مکڑی کو دیکھا۔

انہوں نے بجائے اس  خطرناک مکڑی سے فاصلہ رکھنے کے، اسے سپائیڈر مین بننے کا موقع جانا۔تینوں بھائیوں کو یاد آ گیا تھا کہ پیٹر پارکر کس طرح  سے سپائیڈر مین بنا تھا۔ انہوں نے اُس طریقے کو خود پر آزمانے کا فیصلہ کیا۔
سب سے پہلے سب سے بڑا بھائی مکڑی کے پاس گیا اور اسے پکڑ کر چھیڑا تاکہ وہ اسے کاٹ لے۔ اس کے بعد بڑے بھائی نے اپنے سے  چھوٹے بھائیوں کی مکڑی سے کٹوانے میں مدد کی۔

مکڑی کے زہر کی علامات ظاہر ہونے میں 10 منٹ لگے۔ جب لڑکوں کےوالدین وہاں پہنچے تو انہوں نے اپنے بچوں کو درد سے روتا ہوا پایا۔ وہ اپنے  بچوں کو لے کر مقامی مرکز صحت پر لے گئے جہاں پر ملنے والی ادویات سے ان کی  تکلیف میں کمی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بچوں کو  قریبی ٹاؤن کے ہسپتال بھیج دیا گیا۔اگلے دن بچوں کی حالت مزید بگڑنے پر انہیں لاپاز کے بچوں کےہسپتال پہنچایاگیا۔

مکڑیوں کے کاٹنے کے باعث بچوں کے  پٹھوں میں درد ہو رہا تھا، انہیں  پسینہ آرہا تھا اور بخار کے ساتھ شدید کپکپی طاری تھی۔ڈاکٹروں نے جب تک  کالی بیوہ مکڑی کے  کاٹے کے علاج کا سیرم بچوں کو نہیں دیا، تب تک اُن کی طبعیت شدید خراب رہی۔20 مئی کو تینوں کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی۔
بولیویا کے وزات صحت میں شعبہ وبائیات کے سربراہ ورجیلیو پریتو نے بتاہا کہ وہ یہ  واقعہ صرف اس وجہ سے شیئر کر  رہے ہیں تاکہ بچوں کے والدین  خبردار ہوجائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں ہر چیز کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فلموں اور خوابوں کو بھی سچ سمجھتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :