شہبازشریف کی گرفتاری کا امکان، ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی پہنچ گئے،لاہور کے30 ایس ایچ اوز کو بھی ماڈل ٹاؤن پہنچنے کی ہدایت، شہباز شریف آج نیب میں انکوائری کیلئے پیش نہیں ہوئے تھے۔ ذرائع

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 2 جون 2020 16:51

شہبازشریف کی  گرفتاری کا امکان، ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون 2020ء) مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی رہائشگاہ کے باہر پولیس پہنچ گئی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں انکوائری کیلئے نیب میں عدم پیشی پر شہباز شریف کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جس کے باعث شہباز شریف کی رہائشگاہ کے باہر پولیس پہنچ گئی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے نیب مین جواب جمع کروایا ہے کہ میری 69 سال عمر ہے اور میں کینسر کا مریض ہوں،کورونا خدشات کے باعث نیب آفس میں انکوائری کیلئے پیش نہیں ہوسکتا۔

(جاری ہے)

مجھ سے ویڈیو لنک اور اسکائپ پر نیب جواب لے سکتا ہے۔

شہبازشریف کی جانب سے بھجوایا گیا جواب نیب کو موصول ہوگیا ہے۔ جس پر نیب نے شہباز شریف کے جواب کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد پولیس کے دستے ماڈل ٹاؤن پہنچے۔ ادھر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہوسکی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم علی نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت کے لئے درخواست سماعت کیلئے کل بروز ( بدھ ) مقرر کردی ہے۔ درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ جس میں مئوقف اپنایا گیا کہ 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا۔ عوام کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔

درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے، موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے، انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں، 2018 میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا، 2018 میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو، تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں، نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔