سگریٹ پرٹیکس میں اضافے کاخیرمقدم کرتے ہیں ، سجاداحمدچیمہ

بدھ جون 16:15

ملتان ۔ 17جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جون2020ء) ادارہ برائے تحفظ حقوق اطفال (سپارک)، ہیومن ڈویلپمنٹ فائونڈیشن (ایچ ڈی ایف) اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے گزشتہ روز صحت پر تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے ایک مشترکہ آن لائن سیشن منعقد کیا،جس میںتمباکو کی روک تھام پر کام کرنے والے ماہرین نے تمباکو کی بڑی صنعت کے مسلسل دبائوکے باوجود وفاقی سالانہ بجٹ 2020-21 میں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس برقرار رکھنے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ماہرین نے لاکھوں انسانی جانوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لئے مستقبل کے لئے اپنی سفارشات بھی پیش کیں۔پین فار ٹوبیکو فری کڈز (سی ٹی ایف کی) کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا پاکستان میںتمباکو کی صنعت عوامی صحت کے عوض اپنے خزانے کو پُر کرنے کے لئے پالیسی سازوں کو اثر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کی وجہ سے ہر سال تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے سے 170،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ملک۔ ملک نے حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ تمباکو کی بڑی صنعت کے دبائومیں نہ آتے ہوے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے کی شرح کو برقرار رکھا۔اسپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد چیمہ نے کہا کہ مالی سال 2021-22 کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس کو حتمی شکل دیتے وقت حکومت کو افراط زر اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کومد نظر رکھنا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات غورطلب اور حیران کن ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا اثر زندگی کے تمام بنیادی سامان کی قیمتوں پر پڑا ہے جبکہ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں اب بھی پہلے جیسی ہیں۔