سابق فرانسیسی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو بھاری جرمانے کے ساتھ 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی

سابق وزیراعظم فرانسوا فییون اور ان کی اہلیہ پینیلپی فییون کو دھوکا دہی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ خبر ایجنسی

Kamran Haider Ashar کامران حیدر اشعر منگل جون 03:59

سابق فرانسیسی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو بھاری جرمانے کے ساتھ 5 سال ..
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جون 2020ء) سابق فرانسیسی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ سابق وزیراعظم فرانسوا فییون اور ان کی اہلیہ پینیلپی فییون کو دھوکا دہی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق فرانسیسی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو جعلی نوکری کے مقدمے میں قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی ایک عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم فرانسوا فییون اور ان کی اہلیہ پینیلپی فییون کو دھوکا دہی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ سابق وزیراعظم پر الزام تھا کہ انہوں نے 1990ء سے لے کر 2000ء کے دوران بطور رکن پارلیمنٹ اپنی اہلیہ کو اپنا پارلیمانی معاون ظاہر کیا جس کے بدلے ان کی اہلیہ کو سرکاری خزانے سے لاکھوں یورو ادا کیے گئے حالانکہ ان کی اہلیہ نے کبھی بھی ان کے معاون کے طور پر کام نہیں کیا تھا۔

(جاری ہے)

 
خبر ایجنسی کے مطابق عدالت نے الزام ثابت ہونے پر فرانسوا فییون کو 5 سال قید کی سزا سنا دی ہے جس میں سے 3 سال کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔ قید کے علاوہ  3 لاکھ 75 ہزار یورو جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے اور وہ آئندہ 10 سال تک کوئی بھی منتخب عوامی عہدہ اپنے پاس رکھنے کے لیے نا اہل بھی قرار دے دیے گئے ہیں۔

عدالت نے ان کی اہلیہ کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید اور پونے 4 لاکھ یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ خیال رہے کہ 66 سالہ فرانسوا فییون کا شمار فرانس کے سینیئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور وہ 2007ء سے 2012ء کے عرصے میں وزیراعظم کے عہدے ہر بھی فائز رہے ہیں۔ وہ 2017ء میں ملکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل اہم امیدوار تھے تاہم اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد ان کی صدارتی مہم بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔