غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس، نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری،

میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اگست تک توسیع

بدھ اگست 17:09

غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس، نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری،
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اگست2020ء) لاہور کی احتساب عدالت نے غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار نجی کاروباری شخصیت ، نجی اخبار کے مالک میر شکیل الرحمن کیخلاف ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پیش نہ ہونے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ عدالت نے ملزم میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اگست تک توسیع کر دی۔

احتساب عدالت کے جج اسد علی نے ملزم میر شکیل کیخلاف دائر ریفرنس کی سماعت کی۔ بدھ کو عدالتی سماعت پرملزم میر شکیل کو کرونا ایس او پیز کے تحت عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالتی طلبی پر ملزم سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈویلپمینٹ بشیر احمد کو بھی عدالت پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے روبروملزم ہمایوں فیض رسول کی طرف سے نوید رسول مرزا ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ پیش کیا۔

(جاری ہے)

ملزم میاں بشیر احمد کی طرف سے میاں الیاس ایڈووکیٹ نے بھی وکالت نامہ پیش کر دیا۔ عدالت کے استفسار پر پراسکیوٹر نیب حارث قریشی نے عدالت کو بتایا کہ کرونا کی وجہ سے ملزمان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ اس لئے میر شکیل الرحمن کو بھی پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے میر شکیل الرحمن کو پیش نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد تیسری سماعت ہے مگر میر شکیل الرحمن کو پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ملزم شکیل الرحمن کو پیش کرنے کے انتظامات کئے جائیں۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف نے میر شکیل کو نوازنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، نواز شریف نے باد شاہی طرز حکمرانی سے قانون کی دھجیاں اڑا دیں، نواز شریف کے اقدامات سے سڑکیں اور گلیاں تک میر شکیل الرحمن کو سونپ دیں۔ نیب استغاثہ کے مطابق میر شکیل کو قواعد کے خلاف 54 کنال زمین الاٹ کی گئی،ملزم میر شکیل نے اس وقت کے وزیراعلی نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے، ملزم کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986ء کی خلاف ورزی ہے،ملزم میر شکیل نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کیں، ملزم میر شکیل نے اپنا جرم چھپانے کیلئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کروا لئے۔

نیب استغاثہ کے مطابق الاٹ کی گئی 180 کنال اراضی کی 30 فیصد ایگزمپشن 54 کنال بنتی ہے۔ جبکہ ایگزمپشن پالیسی کے تحت ایک مالک کو 15 کنال زمین ایک جگہ الاٹ ہو سکتی تھی۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پیش نہ ہونے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور کیس مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔