خام تیل کی طلب میں کمی،آئل کمپنیوں کا مستقبل میں پلاسٹک مصنوعات کی پیداوار پرغور آئل انڈسٹریز کا پلاسٹک میں25 فیصد اضافے کے لیے 400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے

فنانشل تھنک ٹینک کاربن ٹریکر اور پائیداری و ترقی کے حوالے سے گروپ سسٹمک کی رپورٹ

جمعہ ستمبر 12:13

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 ستمبر2020ء) دنیا بھر میں خام تیل کی طلب میں کمی کے باعث آئل کمپنیاں اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے پلاسٹک مصنوعات کی پیداوار پر سنجیدگی سے غور کررہی ہیں جس کی وجہ اس کا روز بروز بڑھتا استعمال ہے،آئل انڈسٹری آئندہ پانچ سال کے دوران پلاسٹک کی پیداوار میں ایک چوتھائی (25 فیصد) اضافے کے لیے 400 ارب ڈالر(337.8 ارب یورو) سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم اس میں سرمایہ کاروں کو بڑے نقصانات کا بھی اندیشہ ہے۔

فنانشل تھنک ٹینک کاربن ٹریکر اور پائیداری و ترقی کے حوالے سے گروپ سسٹمک کی جانب سے جمعے کو جاری رپورٹ کے مطابق تیل کی صنعت کو حالیہ مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر ایک سوال کا سامنا ہے کہ تیل کی عالمی طلب اب اپنی بلند ترین سطح کو چھوچکی ہے جبکہ کورونا وائرس کے باعث ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ تیل کی کھپت میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی اس کے علاوہ ماحول دوست توانائی کے شعبے میں بڑھتی سرمایہ کاری بھی پٹرولیم کے معدوم مسقبل کا باعث بن رہی ہے اس لیے وہ مسقبل میں پلاسٹک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کی پیداور پوری کر نے کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 2000 ء سے اب تک پلاسٹک کی پیداوار میں سالانہ 4 فیصد کے قریب اضافہ ہوا ، اکثرکمپنیاں اس امید کے ساتھ اس شعبے میں داخل ہوئیں کی پلاسٹک کی طلب میں اضافہ متواتر رہے گا، پلاسٹک کی صنعت کو زیادہ تر ابھرتی معیشتوں میں فروغ دیا گیا،اس کی پیداوار خام تیل کی عالمی طلب کے 9 فیصد سے بھی کم ہے تاہم یہ تیل کی طلب میں اضافے کا سب سے بڑا عنصر ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ آئل انڈسٹری آئندہ پانچ سال کے دوران پلاسٹ کی پیداوار میں ایک چوتھائی (25 فیصد) اضافے کے لیے 400 ارب ڈالر(337.8 ارب یورو) سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم اس میں سرمایہ کاروں کو بڑے نقصانات کا بھی اندیشہ ہے۔کاربن ٹریکر کے شعبہ توانائی کے ماہر کنگز مل بانڈ نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پلاسٹک انڈسٹری کی نظر میں آئندہ دس سے بیس سال کے دوران پلاسٹک کی طلب بڑھ کر دو گنا ہوجائے گی جبکہ معاشرہ اس میں کمی، اس کے متبادل کی تلاش اور اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے میں ناکام رہے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پلاسٹک مصنوعات کی طلب سالانہ چار فیصد اضافے کے ساتھ 2027 ء تک اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی توقع ہے اس کے بعد اس کی طلب میں اضافہ 1 فیصد سے کم ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ یہ مفروضہ غیر معقول ہے کہ آپ نے گزشتہ 70 سالوں کے دوران جو کچھ کیا ہے وہ آئندہ 50 سال تک انجام دے سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سالانہ 350 ملین ٹن پلاسٹک تیار ہورہا ہے جس کا نصف ایشیا، 19 فیصد شمالی امریکا اور 16 فیصد یورپ میں تیار کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ پلاسٹک کے بڑھتے استعمال نے آلودگی کا بحران پیدا کیا ہے ، ہر سال کم از کم 8 ملین ٹن پلاسٹک سمندروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔