شامی صدر بشارکوقتل کرناچاہتاتھا مگروزیردفاع نے روک دیا،ٹرمپ

انھیں بشارالاسد کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلہ پر کوئی افسوس نہیں ہونا تھا،امریکی صدر کی گفتگو

بدھ ستمبر 12:31

شامی صدر بشارکوقتل کرناچاہتاتھا مگروزیردفاع نے روک دیا،ٹرمپ
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2017 میں شامی صدر بشارالاسد کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر اس وقت ان کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے شام میں اس آپریشن کی مخالفت کردی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انٹرویومیں انھوں نے کہا کہ میں ان (بشارالاسد)کی جان لیتا چاہتا تھا اور اس کے لیے میں نے تمام تیاری مکمل کرلی تھی لیکن جیمز میٹس ایسا نہیں چاہتے تھے۔

انھیں جنرل کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا اور میں نے انھیں جانے دیا تھا۔

(جاری ہے)

انھوں نے اس انٹرویو میں ایک مرتبہ پھر اپنے سابق وزیردفاع جیمز میٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ انھوں نے ان کا پینٹاگان کی قیادت کے لیے خود ہی انتخاب کیا تھا اورانھیں ایک عظیم آدمی قرار دیا تھا لیکن بعد میں بہت سے امور پر ان دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور امریکی فوج کے سابق جنرل کو اپنے عہدے سے استعفا دینا پڑا تھا۔صدر ٹرمپ نے اس انٹرویو میں کہا کہ انھیں بشارالاسد کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلہ پر کوئی افسوس نہیں۔میں یقینی طور پر انھیں(بشارالاسد کو)کوئی اچھا شخص خیال نہیں کرتا ہوں اور میں ان کی جان لینا چاہتا تھا مگر میٹس اس کے خلاف تھے۔