اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران تمام ایف اے ٹی ایف بلز منظور کروانے میں کامیاب

ترامیم مسترد کیے جانے کے بعد اپوزیشن نے اجلاس سے واک آوٹ کیا، حکومت انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل 2020، اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2019 اور اسلام آباد وقف املاک بل 2020 سمیت کل 8 بلز منظور کروانے میں کامیاب رہی

muhammad ali محمد علی بدھ ستمبر 20:06

اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 ستمبر2020ء) اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران تمام ایف اے ٹی ایف بلز منظور کروانے میں کامیاب، ترامیم مسترد کیے جانے کے بعد اپوزیشن نے اجلاس سے واک آوٹ کیا، حکومت انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل 2020، اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2019 اور اسلام آباد وقف املاک بل 2020 سمیت کل 8 بلز منظور کروانے میں کامیاب رہی۔

تفصیلات کے مطابق آج بدھ کے روز ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت اپوزیشن کی بھرپور مخالفت کے باجود ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے تمام بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔ مشترکہ اجلاس کے دوران اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020ء، انسداد تطہیر زر (دوسری ترمیم) بل 2020ء، فن مساحت و نقشہ کشی (ترمیمی) بل 2020ء، عدالت عالیہ اسلام آباد (ترمیمی) بل 2019ء، انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ء، پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2020ء، میڈیکل ٹربیونل بل 2019ء کی منظوری ، دارالحکومت علاقہ جات معذوروں کے حقوق بل 2020ء منظور کروا لیے گئے۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران اپوزیشن نے کچھ ترامیم پیش کرنے کی کوشش کی تاہم وہ مسترد ہوگئیں۔ ترامیم مسترد ہونے کے بعد اپوزیشن اجلاس سے واک آوٹ کر گئی۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو غیر قانونی بھی قرار دیا۔ اپوزیشن عددی اکثریت کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی بلوں کی منظوری نہ روک سکی۔ دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر اپوزیشن کے پاس حکومتی بینچز سے 10 زیادہ ووٹ تھے اس کے باوجود حکومت بلز منظور کروانے میں کامیاب رہی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی۔ تاہم حکومتی اراکین کی مخالفت کی وجہ سے اجلاس کے دوران شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اجلاس کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رکن پارلیمنٹ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس کو غیر قانونی قرار دلوانے کیلئے عدالت جائیں گے۔ شترکہ اجلاس سے وزیراعظم عمران خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر اسپیکر نے بھی کہا کہ پورے ایوان کو اہم قانون سازی کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بلوں کی منظوری کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔