ڈینگی سے متاثر لوگوں میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت بڑھ گئی ، جدید تحقیق میں انکشاف

ڈینگی کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسین کورونا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ، غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کی رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل ستمبر 12:33

ڈینگی سے متاثر لوگوں میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت بڑھ گئی ، جدید تحقیق ..
ریو ڈی جنیرو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2020ء) برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا شکار لوگوں میں کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ ہوا، جن جگہوں پر کورونا وائرس کے کم کیس سامنے آئے، یہ وہ جگہیں ہیں جہاں لوگوں نے ڈینگی کے دوران گزشتہ برس اور رواں سال زیادہ تکالیف اٹھائیں ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈوک یونیورسٹی کے پروفیسر میگل نیکولیلس نے برازیل میں کی جانے والی اپنی تحقیق میں کورونا کے پھیلاؤ والے علاقوں کا موازنہ 2019ء اور2020ء میں ڈینگی کے پھیلاؤ والی جگہوں سے کیا ، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈینگی سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا جس کے باعث ڈینگی کا شکار علاقوں میں کورونا کا پھیلاؤ کم ہوا، جس کا مطلب ہے کہ ڈینگی کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ادویات یا ویکسین کسی حد تک کورونا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

(جاری ہے)

پروفیسر میگل نیکولیلس نے رائیٹرز کو بتایا کہ ان کی تحقیقات میں سامنے آنے والے نتائج انتہائی دلچسپ ہیں کیونکہ اس سے پہلے ہونی والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جن لوگوں کے خون میں ڈینگی اینٹی باڈیز پائی جاتی ہیں ان میں کورونا وائرس ٹیسٹ کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں بے شک وہ لوگ کبھی کورونا وائرس کا شکار نہ ہوئے ہوں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کورونا اور ڈینگی وائرس میں مدافعتی تعلق موجود ہے جس کی کبھی کسی نے توقع نہیں کی تھی، کیونکہ دونوں وائرس کا تعلق بلکل ہی مختلف خاندان سے ہے، تاہم اس تعلق کو ثابت کرنے کیلئے مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برازیل میں جہاں کہیں بھی پہلے ڈینگی کا شکار لوگوں کی تعداد زیادہ تھی، ان علاقوں میں کورونا وائرس کا شکار،اس سے ہونے والی ہلاکتوں اور اس کے بڑھاؤ کا تناسب انتہائی کم ہوگا۔

متعلقہ عنوان :