سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے آئندہ اجلاس میں وزارت قومی تحفظ خوراک کے حکام کو طلب کرلیا

وزارت قومی تحفظ خوراک کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے، قومی تحفظ خوراک ملک میں پیداوار کی تفصیلات بھی فراہم کرے ،چیئر مین کمیٹی ہماری مجموعی طورپر پالیسی صحیح نہیں ہے ، پالیسی میں کسانوں کو تحفظ نہیں، مشیر تجارت عبد الرزاق دائود کا اعتراف، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

منگل ستمبر 13:29

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے آئندہ اجلاس میں وزارت قومی تحفظ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2020ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے آئندہ اجلاس میں وزارت قومی تحفظ خوراک کے حکام کو طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت قومی تحفظ خوراک کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے، قومی تحفظ خوراک ملک میں پیداوار کی تفصیلات بھی فراہم کرے جبکہ مشیر تجارت عبد الرزاق دائود نے اعتراف کیا ہے کہ ہماری مجموعی طورپر پالیسی صحیح نہیں ہے ، پالیسی میں کسانوں کو تحفظ نہیں۔

منگل کو سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوا جس میں بلوچستان کے کسانوں کو پیاز اور ٹماٹر کے مناسب ریٹ نہ ملنے کا معاملہ زیر بحث آیا ، سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ اور پڑوسی ملکوں سے تجارت کے باعث مقامی لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہورہے ہیں، ملک میں جو پراڈکٹ موجود ہے وہ کیوں درآمد کی جارہی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پیاز، ٹماٹر اور دیگر اشیاء بلوچستان میں موجود ہیں لیکن درآمد کی جاتی ہیں، ایک ہزار فٹ سے پانی نکال کر پیداوار اگاتے ہیں، کل بھی مارکیٹ میں 15 روپے کلو پیاز فروخت ہوا، وزارت تجارت بتارہی ہے کہ پیاز کی فی کلو قیمت 40 روپے ہے جو غلط ہے۔سینیٹر میر کبیر شاہی نے مطالبہ کیاکہ ان اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی جائے۔ سیکرٹری تجارت صالح فاروقی نے کہاکہ فوڈ کی درآمد میں وزارت قومی تحفظ خوراک سے رائے لی جاتی ہے، وزارت قومی تحفظ خوراک کی جانب سے سفارشات پر وزارت تجارت درآمد کی اجازت دی جاتی ہے، آلو کی پیداوار میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے آلو کی برآمد پر پابندی لگائی۔

سیکرٹری تجارت نے کہاکہ ہم کسی ملک کی پراڈکٹ پر پابندی لگائیں گے تو وہ ہماری اشیاء پر پابندی لگا دیں گے، کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد کے معاملہ پر وزارت قومی تحفظ خوراک کو بلایا جائے، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں وزارت قومی تحفظ خوراک کو طلب کرلیا۔ مشیر تجارت نے اعتراف کیاکہ ہماری مجموعی طور پر پالیسی صحیح نہیں ہے، ہماری پالیسی میں کسانوں کو تحفظ نہیں ہے۔

مشیر تجارت نے کہاکہ ای سی سی میں پنجاب نے آلو کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا، کسانوں کے پاس آلو کی بہتات ہے انہوں نے کہا کہ پابندی نہ لگائیں۔مشیر تجارت نے کہاکہ مجھے بھی شماریات ڈویڑن کے اعدادوشمار درست نہیں لگ رہے۔سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ غیر قانونی طور پر آلو، سیب، ٹماٹر اور پیاز کی نقل و حمل پر پابندی لگائی جائے۔ چیئر مین نے کہاکہ وزارت قومی تحفظ خوراک کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے، قومی تحفظ خوراک ملک میں پیداوار کی تفصیلات بھی فراہم کرے۔