آغا افتخار الدین مرزا کی معافی کی درخواست ایک بار پھرمسترد، سپریم کورٹ نے اعلی عدلیہ کے بارے نازیبا الفاظ کے استعمال پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

جمعرات ستمبر 15:21

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر اعلی عدلیہ کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے آغا افتخار الدین مرزا کیخلاف از خود نوٹس کیس پر سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمی نے توہین عدالت کے ملزم آغا افتخار الدین مرزا کی جانب سے معافی کیلئے دائر درخواست ایک بار پھر مسترد کردی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سوشل میڈیا پر اعلی عدلیہ اور معزز ججز صاحبان بارے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے والے آغا افتخار الدین مرزا کے خلاف ازخود نوٹس کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت ملزم آغا افتخار الدین مرزا کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں اس لئے پیش نہیں ہوئے ،آغا افتخار الدین مرزا کی بعد میں اوپن ہارٹ سرجری بھی ہونی ہے، عدالت عظمی سے استدعا کرتی ہوں کہ ان کو معاف کر دیا جائی جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ مولانا اتنے نازک دل والے ہیں تو ایسے بڑی باتیں کیسے کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آغا افتخارا لدین مرزا کی میڈیکل رپورٹس جمع کرادی گئی ہیں۔ جس پر آغا افتخارا لدین مرزا کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کی تمام رپورٹس جمع ہیں۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے بھی گواہان کے بیانات کے بیان حلفی جمع کرا دیئے ہیں۔ عدالت عظمی آغا افتخار الدین مرزا کی جانب سے معافی کیلئے دائر درخواست ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ہے۔